الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب الْحَجِّ
حج کے احکام و مسائل
The Book of Pilgrimage
51. باب اسْتِحْبَابِ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا وَبَيَانِ قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ» :
باب: قربانی کے دن جمرہ عقبہ کو سوار ہو کر کنکریاں مارنے کا استحباب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بیان میں کہ ”تم مجھ سے حج کے احکام سیکھ لو“۔
Chapter: It is recommended to stone Jamrat Al-'Aqabah, on the day of sacrifice, riding, and the prophet saws said: "Learn your rituals (of Hajj) from me"
حدیث نمبر: 3137
Save to word اعراب
حدثنا إسحاق بن إبراهيم ، وعلي بن خشرم، جميعا عن عيسى بن يونس ، قال ابن خشرم ، اخبرنا عيسى ، عن ابن جريج ، اخبرني ابو الزبير ، انه سمع جابرا ، يقول: رايت النبي صلى الله عليه وسلم يرمي على راحلته يوم النحر، ويقول: لتاخذوا مناسككم، فإني لا ادري لعلي لا احج بعد حجتي هذه ".حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، جميعا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ، وَيَقُولُ: لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ ".
‏‏‏‏ ابوالزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے کہا: میں نے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ وہ جمرہ عقبہ کو کنکر مارتے تھے اپنی اونٹنی پر سے قربانی کے دن اور فرماتے تھے: سیکھ لو مجھ سے مناسک اپنے حج کے اس لیے کہ میں نہیں جانتا کہ اس کے بعد حج کروں۔
حدیث نمبر: 3138
Save to word اعراب
وحدثني سلمة بن شبيب ، حدثنا الحسن بن اعين ، حدثنا معقل ، عن زيد بن ابي انيسة ، عن يحيى بن حصين ، عن جدته ام الحصين ، قال: سمعتها تقول: حججت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حجة الوداع، فرايته حين رمى جمرة العقبة، وانصرف وهو على راحلته، ومعه بلال، واسامة، احدهما يقود به راحلته، والآخر رافع ثوبه على راس رسول الله صلى الله عليه وسلم من الشمس، قالت: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم قولا كثيرا، ثم سمعته يقول: " إن امر عليكم عبد مجدع حسبتها قالت: اسود يقودكم بكتاب الله تعالى، فاسمعوا له واطيعوا ".وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ ، قَالَ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، فَرَأَيْتُهُ حِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، وَانْصَرَفَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَمَعَهُ بِلَالٌ، وَأُسَامَةُ، أَحَدُهُمَا يَقُودُ بِهِ رَاحِلَتَهُ، وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّمْسِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلًا كَثِيرًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ حَسِبْتُهَا قَالَتْ: أَسْوَدُ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا ".
‏‏‏‏ یحییٰ نے اپنی دادی سیدہ ام الحصین رضی اللہ عنہا سے سنا کہ وہ فرماتی تھیں کہ حج کیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجتہ الوداع۔ سو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جمرہ عقبہ کو کنکر مارے اور لوٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے اپنی اونٹنی پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا بلال اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما تھے کہ ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑ کر کھینچتا تھا اور دوسرا اپنا کپڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر پکڑے ہوئے تھا دھوپ کے سبب سے سو ام حصین نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت باتیں فرمائیں، پھر میں نے سنا کہ فرماتے تھے: اگر تمہارے اوپر ایک غلام کن کٹا حاکم کیا جائے میں خیال کرتا ہوں کہ ام حصین نے یہ بھی کہا کہ کالا غلام ہو اور کہا کہ تم کو کتاب اللہ کے مطابق حکم دے تو بھی اس کی بات سنو اور اس کا کہنا مانو۔
حدیث نمبر: 3139
Save to word اعراب
وحدثني احمد بن حنبل ، حدثنا محمد بن سلمة ، عن ابي عبد الرحيم ، عن زيد بن ابي انيسة ، عن يحيى بن الحصين ، عن ام الحصين جدته، قالت: " حججت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حجة الوداع، فرايت اسامة، وبلالا، واحدهما آخذ بخطام ناقة النبي صلى الله عليه وسلم، والآخر رافع ثوبه يستره من الحر، حتى رمى جمرة العقبة "، قال مسلم: واسم ابي عبد الرحيم خالد بن ابي يزيد، وهو خال محمد بن سلمة، روى عنه، وكيع، وحجاج الاعور.وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ جَدَّتِهِ، قَالَتْ: " حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ، وَبِلَالًا، وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ، حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ "، قَالَ مُسْلِم: وَاسْمُ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، وَهُوَ خَالُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، رَوَى عَنْهُ، وَكِيعٌ، وَحَجَّاجٌ الْأَعْوَرُ.
‏‏‏‏ ام الحصین رضی اللہ عنہا سے وہی مضمون مروی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ کہا مسلم رحمہ اللہ نے کہ نام ابوعبدالرحیم کا خالد بن ابویزید ہے اور وہ ماموں ہیں محمد بن سلمہ کے اور روایت کی ہے ان سے وکیع اور حجاج اعور نے۔

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.