الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب الْحَجِّ
حج کے احکام و مسائل
The Book of Pilgrimage
60. باب وُجُوبِ الْمَبِيتِ بِمِنًى لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَالتَّرْخِيصِ فِي تَرْكِهِ لأَهْلِ السِّقَايَةِ:
باب: ایام تشریق کی راتیں منی میں گزارنا واجب ہیں، اور پانی پلانے والوں کو اس کو چھوڑنے کی رخصت۔
Chapter: It is obligatory to stay overnight in Mina during the nights of the days of At-Tashriq, and the concession allowing those who supply water to leave
حدیث نمبر: 3177
Save to word اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا ابن نمير ، وابو اسامة ، قالا: حدثنا عبيد الله ، عن نافع ، عن ابن عمر . ح وحدثنا ابن نمير ، واللفظ له، حدثنا ابي ، حدثنا عبيد الله ، حدثني نافع ، عن ابن عمر : ان العباس بن عبد المطلب: استاذن رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يبيت بمكة ليالي منى من اجل سقايته فاذن له "،حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، قَالَا: حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِي مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ فَأَذِنَ لَهُ "،
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ عباس رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ رات کو منیٰ کی راتوں میں مکہ میں رہیں، اس لیے کہ ان کے حصے زمزم پلانے کی خدمت تھی۔
حدیث نمبر: 3178
Save to word اعراب
وحدثناه إسحاق بن إبراهيم ، اخبرنا عيسى بن يونس . ح وحدثنيه محمد بن حاتم ، وعبد بن حميد ، جميعا عن محمد بن بكر ، اخبرنا ابن جريج ، كلاهما، عن عبيد الله بن عمر ، بهذا الإسناد مثله.وحدثناه إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 3179
Save to word اعراب
وحدثني محمد بن المنهال الضرير ، حدثنا يزيد بن زريع ، حدثنا حميد الطويل ، عن بكر بن عبد الله المزني ، قال: كنت جالسا مع ابن عباس، عند الكعبة، فاتاه اعرابي، فقال: ما لي ارى بني عمكم يسقون العسل واللبن، وانتم تسقون النبيذ؟ امن حاجة بكم، ام من بخل؟ فقال ابن عباس : " الحمد لله ما بنا من حاجة، ولا بخل قدم النبي صلى الله عليه وسلم على راحلته، وخلفه اسامة، فاستسقى فاتيناه بإناء من نبيذ، فشرب وسقى فضله اسامة وقال: احسنتم واجملتم كذا، فاصنعوا، فلا نريد تغيير ما امر به رسول الله صلى الله عليه وسلم ".وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حدثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حدثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْدَ الْكَعْبَةِ، فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ، فقَالَ: مَا لِي أَرَى بَنِي عَمِّكُمْ يَسْقُونَ الْعَسَلَ وَاللَّبَنَ، وَأَنْتُمْ تَسْقُونَ النَّبِيذَ؟ أَمِنْ حَاجَةٍ بِكُمْ، أَمْ مِنْ بُخْلٍ؟ فقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا بِنَا مِنْ حَاجَةٍ، وَلَا بُخْلٍ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ، فَاسْتَسْقَى فَأَتَيْنَاهُ بِإِنَاءٍ مِنْ نَبِيذٍ، فَشَرِبَ وَسَقَى فَضْلَهُ أُسَامَةَ وَقَالَ: أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ كَذَا، فَاصْنَعُوا، فَلَا نُرِيدُ تَغْيِيرَ مَا أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
‏‏‏‏ عبداللہ مزنی فرزند بکر نے کہا کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کعبہ کے نزدیک کہ ایک گاؤں کا آدمی آیا اور اس نے کہا: کیا سبب ہے کہ میں تمہارے چچا کی اولاد کو دیکھتا ہوں کہ وہ شہد کا شربت اور دودھ پلاتے ہیں اور تم کھجور کا شربت پلاتے ہو کیا تم نے محتاجی کے سبب سے اسے اختیار کیا ہے یا بخیلی کی وجہ سے؟ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: الحمداللہ نہ ہم کو محتاجی ہے نہ بخیلی۔ اصل وجہ اس کی یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اپنی اونٹنی پر اور ان کے پیچھے اسامہ رضی اللہ عنہ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی مانگا سو ہم ایک پیالہ کھجور کے شربت کا لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا اور اس میں سے جو بچا وہ اسامہ رضی اللہ عنہ کو پلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے خوب اچھا کام کیا اور ایسا ہی کیا کرو۔ سو ہم اس کو بدلنا نہیں چاہتے جس کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دے چکے ہیں۔

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.