صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
56. باب المثلة-
مُثلہ (یعنی بدن بگاڑنے یا مثلہ کرنے) کی ممانعت کا بیان -
حدیث نمبر: 5615
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هَلْ تُنْتَجُ إِبِلُ قَوْمِكَ صِحَاحًا آذَانُهَا، فَتَعْمَدُ إِلَى الْمُوسَى، فَتَقْطَعُ آذَانَهَا، فَتَقُولُ: هَذِهِ بُحُرٌ، أَوْ تَشُقُّ جُلُودَهَا، وَتَقُولَ: هَذِهِ صُرُمٌ، فَتُحَرِّمُهَا عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَكُلُّ مَا آتَاكَ اللَّهُ لَكَ حِلٌّ، سَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ، وَمُوسَى اللَّهِ أَحَدُّ مِنْ مُوسَاكَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ:" سَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ": مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ الَّتِي لا يَتَهَيَّأُ مَعْرِفَةُ الْخَطَّابِ فِي الْقَصْدِ فِيمَا بَيْنَ النَّاسِ إِلا بِهِ، وَقَوْلُهُ:" فَكُلُّ مَا آتَاكَ اللَّهُ لَكَ حِلٌّ": لَفْظَةُ أَمْرٍ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ سَبَبِ ذَلِكَ الشَّيْءِ، وَهُوَ اسْتِعْمَالُ الْقَوْمِ فِي الإِبِلِ قَطْعَ الآذَانِ، وَشَقَّ الْجُلُودِ، وَتَحْرِيمَهَا عَلَيْهَا.
ابو الاحوص اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا ایسا ہے کہ تمہاری قوم کے اونٹ صحیح و سالم کانوں والے بچے کو جنم دیتے ہیں، پھر کوئی شخص استرا لے کر اس کا کان کاٹ دیتا ہے اور کہتا ہے: یہ بحر (یعنی فلاں بت کے لیے مخصوص) ہے، یا وہ اس کی کھال کو چیر دیتا ہے اور کہتا ہے: یہ صرم (یعنی فلاں بت کے لیے مخصوص ہے)، اور پھر وہ شخص اس اونٹ کو اپنے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے حرام قرار دے دیتا ہے؟“ راوی کہتے ہیں: میں نے جواب دیا: جی ہاں! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہیں جو بھی چیز عطا کرتا ہے وہ حلال ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کی کلائی تمہاری کلائی سے زیادہ مضبوط ہے اور اللہ تعالیٰ کا استرا تمہارے استرے سے زیادہ تیز ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ: ”اللہ تعالیٰ کی کلائی تمہاری کلائی سے زیادہ مضبوط ہے“، یہ لوگوں کے محاورے کے مطابق ہے کیونکہ سننے والے تک یہ مفہوم ان کے محاورے کے مطابق ہی منتقل کیا جا سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کی ہے وہ تمہارے لیے حلال ہے“، یہاں پر لفظی طور پر امر کا صیغہ ہے لیکن اس کے ذریعے مراد اس چیز کے سبب سے منع کرنا ہے اور وہ لوگوں کا اونٹوں کے بارے میں یہ طرز عمل اختیار کرنا ہے کہ وہ ان کے کان کاٹ دیتے ہیں اور ان کی کھال چیر دیتے ہیں، پھر اسے اپنے لیے حرام قرار دے دیتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5615]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3410، 5416، 5417، 5615، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 66، 7457، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3797، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4063، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2006، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2109، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19772، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16132» «رقم طبعة با وزير 5586»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 104).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
57. باب المثلة - ذكر الزجر عن المثلة بشيء فيه الروح-
مُثلہ (یعنی بدن بگاڑنے یا مثلہ کرنے) کی ممانعت کا بیان - زجر بیان کیا گیا کہ کسی جاندار کی مثلة کرنا منع ہے
حدیث نمبر: 5616
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : إِنَّ عَبْدًا لِي أَبَقَ، وَإِنِّي نَذَرْتُ إِنْ أَصَبْتُهُ، لأَقْطَعَنَّ يَدَهُ، قَالَ: لا تَقْطَعْ يَدَهُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ فِينَا، " فَيَأْمُرُنَا بِالصَّدَقَةِ، وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ" .
حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے کہا: میرا ایک غلام مفرور ہو گیا ہے، میں نے یہ نذر مانی ہے کہ اگر وہ مجھے مل گیا تو اس کے ہاتھ ضرور کاٹوں گا۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اس کا ہاتھ نہ کاٹنا، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ”صدقہ کرنے کا حکم دیا اور مثلہ کرنے سے منع کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5616]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1133، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4473، 5616، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7938، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2667، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1697، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18121، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20158» «رقم طبعة با وزير 5587»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «المشكاة» (3540)، «الإرواء» (2230)، «صحيح أبي داود» (2353).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
58. باب المثلة - ذكر لعن المصطفى صلى الله عليه وسلم الممثل بالشيء من الحيوان-
مُثلہ (یعنی بدن بگاڑنے یا مثلہ کرنے) کی ممانعت کا بیان - بیان کیا گیا کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جاندار کی مثلة کرنے والے کو لعنت کی
حدیث نمبر: 5617
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت کی ہے، جو جانور کا مثلہ کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5617]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5514، 5515، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1958، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5617، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7670، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4453، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18132، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3194» «رقم طبعة با وزير 5588»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (382): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
59. فصل فيما يتعلق بالدواب - ذكر إباحة استعمال المرء الارتداف والتعقيب على الدابة الواحدة إذا علم قلة تأذي الدابة به-
جانوروں سے متعلق احکام کے بیان میں ایک فصل - بیان کیا گیا کہ انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ ایک جانور پر بیٹھے اور اس پر سوار ہو اگر جانور کو کم نقصان پہنچے
حدیث نمبر: 5618
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَقَدْ قُدْتُ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ، حَتَّى أَدْخَلْتُهُمْ حُجْرَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا قُدَّامَهُ، وَهَذَا خَلْفَهُ" .
ایاس بن سلمہ اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بیان نقل کرتے ہیں) ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو ایک خچر پر سوار کروا کے لے جا رہا تھا، یہاں تک کہ میں انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے اندر آیا۔ (سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما میں سے) ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے بیٹھے ہوئے تھے، دوسرے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5618]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2423، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5618، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2775، والطبراني فى(الكبير) برقم: 6247» «رقم طبعة با وزير 5589»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن: م (7/ 130).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
60. فصل فيما يتعلق بالدواب - ذكر الزجر عن اتخاذ المرء الدواب كراسي-
جانوروں سے متعلق احکام کے بیان میں ایک فصل - زجر بیان کیا گیا کہ جانوروں کو کرسی کے طور پر استعمال نہ کرے
حدیث نمبر: 5619
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ارْكَبُوا هَذِهِ الدَّوَابَّ سَالِمَةً، وَلا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فَمَعْنَاهُ أَنَّهُ لا يَسِيرُ بِهَا، وَلا يَنْزِلُ عَنْهَا.
سہل بن معاذ اپنے والد رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ان کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ان جانوروں پر سلامتی کے ساتھ سواری کرو، انہیں کرسی نہ بناؤ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس کا مطلب یہ ہے انہیں اس طرح سے لے کر نہ چلو کہ تم ان سے نیچے اترو ہی نہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5619]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2544، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5619، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1631، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10445، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15869» «رقم طبعة با وزير 5590»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (21 و 22).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
61. فصل فيما يتعلق بالدواب - ذكر الزجر عن ضرب المرء ذوات الأربع على وجوهها-
جانوروں سے متعلق احکام کے بیان میں ایک فصل - زجر بیان کیا گیا کہ چار پیروں والے جانور کو اس کے چہرے پر نہ مارے
حدیث نمبر: 5620
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَيْهِ بِحِمَارٍ قَدْ كُوِيَ عَلَى وَجْهِهِ أَوْ وُسِمَ، فَلَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: " سُبْحَانَ اللَّهِ، لا تَضْرِبُوهَا عَلَى وُجُوهِهَا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے کے پاس سے گزرے جس کے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی جس نے ایسا کیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ! تم لوگ ان کے چہروں پر نہ مارو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5620]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2116، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2551، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5620، 5626، 5627، 5628، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2564، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1710، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10443، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14381» «رقم طبعة با وزير 5591»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر (5597). تنبيه!! رقم (5597) = (5626) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
62. فصل فيما يتعلق بالدواب - ذكر الخبر الدال على أن المسيء إلى ذوات الأربع قد يتوقع له دخول النار في القيامة بفعله ذلك-
جانوروں سے متعلق احکام کے بیان میں ایک فصل - بیان کیا گیا کہ چار پیروں والے جانور کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے کے لیے قیامت میں آگ متوقع ہے
حدیث نمبر: 5621
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " دَخَلْتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا، فَلا هِيَ أَطْعَمَتْهَا، وَلا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ، حَتَّى مَاتَتْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک عورت ایک بلی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئی۔ اس نے اس بلی کو باندھ دیا تھا، وہ اسے کھانے کے لیے نہیں دیتی تھی اور اسے کھولتی بھی نہیں تھی کہ وہ خود ہی کچھ کھا لیتی، یہاں تک کہ وہ بلی مر گئی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5621]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3318، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2242، وابن حبان فى (صحيحه) 2/305، بدون ترقيم، 5621، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4256، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15917، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7663» «رقم طبعة با وزير 5592»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (280).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
63. فصل فيما يتعلق بالدواب - ذكر وصف عذاب هذه المرأة التي ربطت الهرة حتى ماتت-
جانوروں سے متعلق احکام کے بیان میں ایک فصل - بیان کیا گیا کہ اس عورت کے لیے عذاب کیسی ہوگی جس نے بلی کو باندھ کر مار دیا
حدیث نمبر: 5622
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ:" انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ وَقُمْنَا، فَصَلَّى، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا يُحَدِّثُنَا، فَقَالَ:" لَقَدْ عُرِضَتَ عَلَيَّ الْجَنَّةُ، حَتَّى لَوْ شِئْتُ لَتَعَاطَيْتُ مِنْ قُطُوفِهَا، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، فَلَوْلا أَنِّي دَفَعْتُهَا عَنْكُمْ، لَغَشِيَتْكُمْ، وَرَأَيْتُ فِيهَا ثَلاثَةً يُعَذَّبُونَ: امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً، تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا، أَوْثَقَتْهَا فَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ، وَلَمْ تُطْعِمْهَا حَتَّى مَاتَتْ، فَهِيَ إِذَا أَقْبَلَتْ تَنْهَشُهَا، وَإِذَا أَدْبَرَتْ تَنْهَشُهَا، وَرَأَيْتُ أَخَا بَنِي دَعْدَعٍ صَاحِبَ السَّائِبِتَيْنِ يُدْفَعُ بِعَمُودَيْنِ فِي النَّارِ، وَالسَّائِبَتَانِ: بَدَنَتَانِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَقَهُمَا، وَرَأَيْتُ صَاحِبَ الْمِحْجَنِ مُتَّكِئًا عَلَى مِحْجَنِهِ، وَكَانَ صَاحِبُ الْمِحْجَنِ يَسْرِقُ مَتَاعَ الْحُجَّاجِ بِمِحْجَنِهِ، فَإِذَا خَفِيَ لَهُ ذَهَبَ بِهِ، وَإِذَا ظَهَرَ عَلَيْهِ، قَالَ: إِنِّي لَمْ أَسْرِقْ، إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ہم بھی کھڑے ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی۔ اس کے بعد بات چیت کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا۔ یہاں تک کہ اگر میں چاہتا، تو اس کے خوشے کو حاصل کر لیتا۔ میرے سامنے جہنم کو پیش کیا گیا اگر میں اسے پرے نہ کرتا تو وہ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ میں نے اس میں تین لوگوں کو دیکھا، جنہیں عذاب دیا جا رہا تھا۔ ایک یمن کی رہنے والی سیاہ فام لمبی عورت تھی جسے ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا تھا۔ اس نے اس بلی کو باندھ دیا تھا۔ اسے چھوڑا نہیں تھا کہ وہ خود ہی کچھ کھا لیتی۔ اس نے اس بلی کو کچھ کھانے کے لیے نہیں دیا یہاں تک کہ وہ بلی مر گئی تو وہ بلی اس کی طرف آتی تھی، پھر وہ اس کے پیچھے کی طرف سے آتی تھی اور اسے نوچتی تھی۔ (میں نے جہنم میں) بنو دعدع سے تعلق رکھنے والے اس شخص کو دیکھا جس کا دو اونٹنیوں کا معاملہ تھا جسے جہنم میں دو ستونوں کے درمیان باندھا ہوا تھا (راوی بیان کرتے ہیں) وہ دو اونٹنیاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں میں سے تھیں، جنہیں اس شخص نے چوری کر لیا تھا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) میں نے لاٹھی والے شخص کو دیکھا جو لاٹھی کے ذریعے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔ یہ شخص اپنی لاٹھی کے ذریعے حاجیوں کا ساز و سامان چوری کیا کرتا تھا، جب اس کی چوری پوشیدہ رہتی تھی تو وہ سامان لے جایا کرتا تھا جب پکڑی جاتی تھی تو یہ کہتا تھا: ”میں نے چوری نہیں کی۔ یہ چیز تو میری لاٹھی کے ساتھ لٹک گئی تھی۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5622]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1045، 1051، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 910، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 901، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2829، 2838، 5622، 7489، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1233، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1194، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3414، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6594» «رقم طبعة با وزير 5593»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - جزء الكسوف «صحيح أبي داود» (484/ 596) *. *قال الشيخ: فيه بيان أنه لا يصح من فقرة (2) إلا السرقة، وأن (أخا بَنِي دعدع) هو صاحب المحجن، وأن الخط من (عطاء بن السائب) المختلط.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
64. فصل فيما يتعلق بالدواب - ذكر الإباحة للمرء أن يسم في جاعرتي ذوات الأربع-
جانوروں سے متعلق احکام کے بیان میں ایک فصل - بیان کیا گیا کہ انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ چار پیروں والے جانور پر نشانات لگائے
حدیث نمبر: 5623
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ الْعَبَّاسَ، وَسَمَ بَعِيرًا أَوْ دَابَّةً فِي وَجْهِهِ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ، فَقَالَ عَبَّاسٌ: لا أَسِمُهُ إِلا فِي آخِرِهِ، فَوَسَمَهُ فِي جَاعِرَتَيْهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ یا کسی جانور کے چہرے پر داغ لگایا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ غصے میں آ گئے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اب میں ہمیشہ اس کے جسم کے پچھلے حصے پر داغ لگایا کروں گا، تو پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اس کے «الْجَاعِرَةِ» (ران کا وہ حصہ جہاں تک جانور کی دم ہلانے تک پہنچتی ہے) پر داغ لگایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5623]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2118، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5623، 5624، 5625، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13384، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 10822، 11926، 11983» «رقم طبعة با وزير 5594»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
65. فصل فيما يتعلق بالدواب - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه-
جانوروں سے متعلق احکام کے بیان میں ایک فصل - دوسری خبر بیان کی گئی جو پہلے بیان شدہ خبر کی تصدیق کرتی ہے
حدیث نمبر: 5624
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَاللَّهِ لا أَسِمُهُ إِلا فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنَ الْوَجْهِ، فَأَمَرَ بِحِمَارٍ لَهُ، فَكُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ، فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ كَوَى الْجَاعِرَتَيْنِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھے کو دیکھا جس کے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سختی سے مذمت کی۔ ان صاحب نے عرض کی: اللہ کی قسم! اب میں اس کے جسم کے اس حصے پر داغ لگاؤں گا جو چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو، تو ان صاحب کے حکم کے تحت ان کے گدھے کی رانوں کے اس حصے پر داغ لگایا گیا (جہاں تک دم ہل کر پہنچتی ہے) تو وہ پہلا جانور تھا جس کی رانوں کے حصے پر داغ لگایا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5624]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2118، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5623، 5624، 5625، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13384، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 10822، 11926، 11983» «رقم طبعة با وزير 5595»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (6/ 163 - 164).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم