الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب الْحَجِّ
حج کے احکام و مسائل
The Book of Pilgrimage
47. باب الإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلاَتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمْعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ:
باب: عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کا استحباب۔
Chapter: Departing from 'Arafat to Al-Muzdalifah. It is recommended to pray Maghrib and 'Isha together in Al-Muzdalifah on this night
حدیث نمبر: 3099
Save to word اعراب
حدثنا يحيى بن يحيى ، قال: قرات على مالك ، عن موسى بن عقبة ، عن كريب مولى ابن عباس، عن اسامة بن زيد ، انه سمعه يقول: دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفة حتى إذا كان بالشعب نزل، فبال ثم توضا ولم يسبغ الوضوء، فقلت له: الصلاة، قال: " الصلاة امامك "، فركب فلما جاء المزدلفة نزل فتوضا فاسبغ الوضوء، ثم اقيمت الصلاة فصلى المغرب، ثم اناخ كل إنسان بعيره في منزله، ثم اقيمت العشاء فصلاها، ولم يصل بينهما شيئا.حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ، فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغْ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلَاةَ، قَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، فَرَكِبَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّاهَا، وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا.
‏‏‏‏ کریب جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں انہوں نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: لوٹے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے یہاں تک کہ جب گھاٹی کے پاس آئے اترے اور پیشاب کیا اور ہلکا سا وضو کیا اور مبالغہ نہیں کیا وضو میں، میں نے کہا: نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز تمہارے آگے ہے۔ اور پھر سوار ہوئے اور مزدلفہ میں آئے اور اترے اور وضو کیا پوری طرح سے پھر نماز کی تکبیر ہوئی اور مغرب پڑھی پھر ہر ایک نے اپنا اونٹ جہاں تھا وہیں بٹھا دیا پھر تکبیر ہوئی اور عشاء پڑھی اور ان کے بیچ میں کچھ نہیں پڑھا (یعنی سنت نہ پڑھی)۔
حدیث نمبر: 3100
Save to word اعراب
وحدثنا محمد بن رمح ، اخبرنا الليث ، عن يحيى بن سعيد ، عن موسى بن عقبة مولى الزبير، عن كريب مولى ابن عباس، عن اسامة بن زيد ، قال: انصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد الدفعة من عرفات إلى بعض تلك الشعاب لحاجته، فصببت عليه من الماء، فقلت: اتصلي، فقال: " المصلى امامك ".وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الدَّفْعَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى بَعْضِ تِلْكَ الشِّعَابِ لِحَاجَتِهِ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ، فَقُلْتُ: أَتُصَلِّي، فَقَالَ: " الْمُصَلَّى أَمَامَكَ ".
‏‏‏‏ کریب نے کہا کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوٹے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے اور بعض گھاٹیوں میں اترے حاجت کے واسطے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالا یعنی وضو کے وقت اور کہا کہ آپ نماز پڑھیں گے؟ تو فرمایا: نماز کی جگہ تمہارے آگے ہے۔ (یعنی مزدلفہ اور باقی تفصیل اس حدیث اسامہ رضی اللہ عنہ کی اوپر گزر چکی ہے)۔
حدیث نمبر: 3101
Save to word اعراب
وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، قال: حدثنا عبد الله بن المبارك . ح وحدثنا ابو كريب ، واللفظ له، حدثنا ابن المبارك ، عن إبراهيم بن عقبة ، عن كريب مولى ابن عباس، قال: سمعت اسامة بن زيد ، يقول: افاض رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفات، فلما انتهى إلى الشعب نزل فبال، ولم يقل اسامة: اراق الماء، قال: فدعا بماء فتوضا وضوءا ليس بالبالغ، قال: فقلت: يا رسول الله، الصلاة، قال: " الصلاة امامك "، قال: ثم سار حتى بلغ جمعا، فصلى المغرب والعشاء.وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، يَقُولُ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ، وَلَمْ يَقُلْ أُسَامَةُ: أَرَاقَ الْمَاءَ، قَالَ: فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، قَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، قَالَ: ثُمَّ سَارَ حَتَّى بَلَغَ جَمْعًا، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ.
‏‏‏‏ کریب نے وہی مضمون سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا اور اس میں سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے پانی ڈالنے کا ذکر نہیں ہے اور یہ بات زیادہ ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ پہنچے اور مغرب اور عشاء ملا کر پڑھی۔
حدیث نمبر: 3102
Save to word اعراب
وحدثنا إسحاق بن إبراهيم ، اخبرنا يحيى بن آدم ، حدثنا زهير ابو خيثمة ، حدثنا إبراهيم بن عقبة ، اخبرني كريب ، انه سال اسامة بن زيد : كيف صنعتم حين ردفت رسول الله صلى الله عليه وسلم عشية عرفة؟ فقال: جئنا الشعب الذي ينيخ الناس فيه للمغرب، فاناخ رسول الله صلى الله عليه وسلم ناقته وبال، وما قال: اهراق الماء، ثم دعا بالوضوء، فتوضا وضوءا ليس بالبالغ، فقلت: يا رسول الله، الصلاة، فقال: " الصلاة امامك "، فركب حتى جئنا المزدلفة فاقام المغرب، ثم اناخ الناس في منازلهم، ولم يحلوا حتى اقام العشاء الآخرة فصلى، ثم حلوا: قلت فكيف فعلتم حين اصبحتم؟ قال: ردفه الفضل بن عباس: وانطلقت انا في سباق قريش على رجلي.وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ : كَيْفَ صَنَعْتُمْ حِينَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ: جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمَغْرِبِ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ وَبَالَ، وَمَا قَالَ: أَهَرَاقَ الْمَاءَ، ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، فَرَكِبَ حَتَّى جِئْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ، وَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَصَلَّى، ثُمَّ حَلُّوا: قُلْتُ فَكَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ؟ قَالَ: رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ: وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ.
‏‏‏‏ کریب نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جب تم سوار ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تو کیا کیا عرفہ کی شام کو؟ انہوں نے کہا کہ ہم اس گھاٹی تک آئے جہاں لوگ اونٹوں کو بٹھاتے ہیں نماز مغرب کے لیے سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو بٹھایا اور اترے اور پیشاب کیا اور پانی دینے کا ذکر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے نہیں کیا پھر وضو کا پانی مانگا اور ہلکا سا وضو کیا پورا نہیں (یعنی ایک ایک بار اعضاء دھوئے) اور میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! نماز، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز تمہارے آگے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ آئے اور مغرب کی تکبیر ہوئی اور لوگوں نے اونٹ بٹھائے اور کھولے نہیں یہاں تک کہ عشاء کی تکبیر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء بھی پڑھی پھر اونٹ کھول دئیے، میں نے کہا کہ پھر تم نے صبح کو کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ پھر سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے سوار ہوئے اور میں قریش کی راہ سے پیدل چلا۔
حدیث نمبر: 3103
Save to word اعراب
حدثنا إسحاق بن إبراهيم ، اخبرنا وكيع ، حدثنا سفيان ، عن محمد بن عقبة ، عن كريب ، عن اسامة بن زيد ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما اتى النقب الذي ينزله الامراء نزل فبال، ولم يقل اهراق، ثم دعا بوضوء فتوضا وضوءا خفيفا، فقلت: يا رسول الله، الصلاة، فقال: " الصلاة امامك ".حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى النَّقْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَاءُ نَزَلَ فَبَالَ، وَلَمْ يَقُلْ أَهَرَاقَ، ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ ".
‏‏‏‏ وہی مضمون ہے جو اوپر کئی بار گزرا اس میں یہ ہے کہ اس گھاٹی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے جہاں اُمرا اترتے تھے۔
حدیث نمبر: 3104
Save to word اعراب
حدثنا عبد بن حميد ، اخبرنا عبد الرزاق ، اخبرنا معمر ، عن الزهري ، عن عطاء مولى ابن سباع، عن اسامة بن زيد : انه كان رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم حين " افاض من عرفة، فلما جاء الشعب اناخ راحلته، ثم ذهب إلى الغائط، فلما رجع صببت عليه من الإداوة فتوضا، ثم ركب، ثم اتى المزدلفة، فجمع بها بين المغرب والعشاء ".حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى ابْنِ سِبَاعٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ : أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ " أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، فَلَمَّا جَاءَ الشِّعْبَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الْغَائِطِ، فَلَمَّا رَجَعَ صَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ رَكِبَ، ثُمَّ أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، فَجَمَعَ بِهَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ".
‏‏‏‏ وہی مضمون ہے مگر اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پائخانے تشریف لے گئے اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے چھاگل سے پانی ڈالا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا۔
حدیث نمبر: 3105
Save to word اعراب
حدثني زهير بن حرب ، حدثنا يزيد بن هارون ، اخبرنا عبد الملك بن ابي سليمان ، عن عطاء ، عن ابن عباس ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم " افاض من عرفة، واسامة ردفه، قال اسامة: فما زال يسير على هيئته حتى اتى جمعا ".حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، وَأُسَامَةُ رِدْفُهُ، قَالَ أُسَامَةُ: فَمَا زَالَ يَسِيرُ عَلَى هَيْئَتِهِ حَتَّى أَتَى جَمْعًا ".
‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار ہوئے اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ میں پہنچے۔
حدیث نمبر: 3106
Save to word اعراب
وحدثنا وحدثنا ابو الربيع الزهراني ، وقتيبة بن سعيد ، جميعا عن حماد بن زيد ، قال ابو الربيع: حدثنا حماد ، حدثنا هشام ، عن ابيه ، قال سئل اسامة، وانا شاهد، او قال: سالت اسامة بن زيد ، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اردفه من عرفات، قلت: كيف كان يسير رسول الله صلى الله عليه وسلم حين افاض من عرفة؟ قال: " كان يسير العنق، فإذا وجد فجوة نص ".وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ، وَأَنَا شَاهِدٌ، أَوَ قَالَ: سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَاتٍ، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ يَسِيرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ؟ قَالَ: " كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ ".
‏‏‏‏ ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی کہ ان کے سامنے کسی نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا یا انہوں نے خود پوچھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی اونٹنی پر سوار کر لیا تھا عرفات سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر چلتے تھے؟ یعنی اونٹنی کو کس چال سے لیے جاتے تھے۔ تو انہوں نے کہا کہ میٹھی چال چلاتے تھے پھر جب ذرا کھلی جگہ پاتے یعنی جہاں بھیڑ کم ہوتی تو اس جگہ ذرا تیز کر دیتے۔
حدیث نمبر: 3107
Save to word اعراب
وحدثناه ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عبدة بن سليمان ، وعبد الله بن نمير ، وحميد بن عبد الرحمن ، عن هشام بن عروة ، بهذا الإسناد، وزاد في حديث حميد، قال هشام: والنص فوق العنق.وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ حُمَيْدٍ، قَالَ هِشَامٌ: وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ.
‏‏‏‏ ہشام بن عروہ سے اسی اسناد سے وہی مضمون مروی ہوا مگر حمید کی روایت میں یہ ہے کہ ہشام نے کہا کہ نص جو اونٹنی کی چال ہے وہ عنق سے تیز ہے۔
حدیث نمبر: 3108
Save to word اعراب
حدثنا يحيى بن يحيى ، اخبرنا سليمان بن بلال ، عن يحيى بن سعيد ، اخبرني عدي بن ثابت ، ان عبد الله بن يزيد الخطمي ، حدثه: ان ابا ايوب ، اخبره: انه صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع المغرب والعشاء بالمزدلفة "،حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ ، حَدَّثَهُ: أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ "،
‏‏‏‏ ابوایوب سے روایت ہے کہ انہوں نے نماز پڑھی حجتہ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نماز جمع کر کے مزدلفہ میں۔
حدیث نمبر: 3109
Save to word اعراب
وحدثناه قتيبة ، وابن رمح ، عن الليث بن سعد ، عن يحيى بن سعيد ، بهذا الإسناد، قال ابن رمح في روايته، عن عبد الله بن يزيد الخطمي: وكان اميرا على الكوفة على عهد ابن الزبير.وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَتِهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ: وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الْكُوفَةِ عَلَى عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ.
‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 3110
Save to word اعراب
وحدثنا يحيى بن يحيى ، قال: قرات على مالك ، عن ابن شهاب ، عن سالم بن عبد الله ، عن ابن عمر : " ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى المغرب والعشاء بالمزدلفة جميعا ".وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا ".
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نماز جمع کر کے مزدلفہ میں پڑھی۔
حدیث نمبر: 3111
Save to word اعراب
وحدثني حرملة بن يحيى ، اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، ان عبيد الله بن عبد الله بن عمر ، اخبره: ان اباه ، قال: " جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين المغرب والعشاء، بجمع ليس بينهما سجدة، وصلى المغرب ثلاث ركعات، وصلى العشاء ركعتين "، فكان عبد الله يصلي بجمع كذلك حتى لحق بالله تعالى.وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ: " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، بِجَمْعٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا سَجْدَةٌ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ "، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي بِجَمْعٍ كَذَلِكَ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ تَعَالَى.
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء ملا کر پڑھی مزدلفہ میں اور ان کے بیچ میں ایک رکعت بھی نہیں پڑھی اور مغرب کی تین رکعت اور عشاء کی دو پڑھیں اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی آخر عمر تک مزدلفہ میں اسی طرح پڑھتے رہے۔
حدیث نمبر: 3112
Save to word اعراب
حدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي ، حدثنا شعبة ، عن الحكم ، وسلمة بن كهيل ، عن سعيد بن جبير : " انه صلى المغرب بجمع، والعشاء بإقامة "، ثم حدث عن ابن عمر: انه صلى مثل ذلك، وحدث ابن عمر : ان النبي صلى الله عليه وسلم صنع مثل ذلك،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ : " أَنَّهُ صَلَّى الْمَغْرِبَ بِجَمْعٍ، وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ "، ثُمَّ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ صَلَّى مِثْلَ ذَلِكَ، وَحَدَّثَ ابْنُ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ،
‏‏‏‏ سعید بن جبیر نے مغرب اور عشاء کی نماز ایک تکبیر سے پڑھی اور بیان کیا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی ایسا ہی کیا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا۔
حدیث نمبر: 3113
Save to word اعراب
وحدثنيه زهير بن حرب ، حدثنا وكيع ، حدثنا شعبة ، بهذا الإسناد، وقال: صلاهما بإقامة واحدة.وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: صَلَّاهُمَا بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ.
‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ دونوں نمازیں ایک اقامت کے ساتھ پڑھیں۔
حدیث نمبر: 3114
Save to word اعراب
وحدثنا عبد بن حميد ، اخبرنا عبد الرزاق ، اخبرنا الثوري ، عن سلمة بن كهيل ، عن سعيد بن جبير ، عن ابن عمر ، قال: " جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين المغرب والعشاء بجمع، صلى المغرب ثلاثا، والعشاء ركعتين بإقامة واحدة ".وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ، صَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا، وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ".
‏‏‏‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کو جمع کیا مزدلفہ کے مقام پر مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعت پڑھیں ایک ہی اقامت کے ساتھ۔
حدیث نمبر: 3115
Save to word اعراب
وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عبد الله بن نمير ، حدثنا إسماعيل بن ابي خالد ، عن ابي إسحاق ، قال: قال سعيد بن جبير : افضنا مع ابن عمر حتى اتينا جمعا، فصلى بنا المغرب والعشاء بإقامة واحدة "، ثم انصرف فقال: هكذا صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في هذا المكان ".وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ : أَفَضْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ حَتَّى أَتَيْنَا جَمْعًا، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ "، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: هَكَذَا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ ".
‏‏‏‏ سعید نے کہا کہ ہم لوٹے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ اور آئے مزدلفہ میں اور وہاں مغرب اور عشاء ایک تکبیر سے پڑھی اور کہا کہ اسی طرح ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں نماز پڑھی تھی۔

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.