سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب : خطبة الرجل إذا ترك الخاطب أو أذن له
باب: شادی کے لیے پہلے پیغام دینے والے کے دست بردار ہو جانے یا اجازت دینے پر دوسرا شخص پیغام دے۔
حدیث نمبر: 3245
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ , سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ الرَّجُلِ، حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ قَبْلَهُ، أَوْ يَأْذَنَ لَهُ الْخَاطِبُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ تم میں سے بعض بعض کی بیع پر بیع کرے ۱؎ اور نہ ہی کوئی آدمی دوسرے آدمی کے شادی کے پیغام پر اپنا پیغام دے۔ جب تک (پہلا) پیغام دینے والا چھوڑ نہ دے ۲؎ یا وہ دوسرے کو پیغام دینے کی اجازت نہ دیدے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3245]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ”تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کے سودے پر سودا کرے یا اس کے پیغام نکاح پر پیغام بھیجے، حتیٰ کہ پہلے پیغام بھیجنے والا ارادہ ترک کر دے یا دوسرے کو اجازت دے دے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3245]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 45 (5142)، (تحفة الأشراف: 7778) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کسی دکاندار کا سودا طے ہو رہا ہو تو پڑوسی دکاندار خریدار کو یہ کہہ کر نہ بلائے کہ میں تمہیں اس سے کم قیمت پر سامان دوں گا۔ ۲؎: یعنی دوسری جانب سے انکار ہو گیا یا وہ خود ہی دستبردار ہو گیا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 3240
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ بَعْضٍ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی کسی دوسرے کے پیغام پر پیغام نہ دے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3240]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3240]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 6 (1412)، سنن الترمذی/البیوع 57 (1292)، (تحفة الأشراف: 8284)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح 45 (5142)، سنن ابی داود/النکاح 18 (2081)، سنن ابن ماجہ/النکاح 10 (1867)، موطا امام مالک/النکاح 1 (2)، مسند احمد 2/124)، سنن الدارمی/النکاح 7 (2222) ویأتي برقم: 3245 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اگر پیغام پر پیغام دینے والے کو پہلے پیغام سے متعلق علم ہے تو اس کا یہ پیغام دینا کسی صورت میں درست نہیں ہو گا، البتہ لاعلمی کی صورت میں معذور سمجھا جائے گا، چونکہ پیغام پر پیغام دینے سے مسلمانوں میں باہمی دشمنی اور عداوت پھیلے گی، اور اسلامی معاشرہ کو اسلام، ان عیوب سے صاف ستھرا رکھنا چاہتا ہے، اسی لیے پیغام پر پیغام دینا اسلام کی نظر میں حرام ٹھہرا تاکہ بغض و عداوت سے اسلامی معاشرہ پاک و صاف رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3241
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَنَاجَشُوا، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(دھوکہ دینے کیلئے) چیزوں کی قیمت نہ بڑھاؤ ۱؎، کوئی شہری دیہاتی کا مال نہ بیچے ۲؎، اور کوئی اپنے بھائی کے بیع پر بیع نہ کرے، اور نہ کوئی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام دے، کوئی عورت اپنی بہن (سوکن) کے طلاق کی طلب گار نہ بنے کہ اس کے برتن میں جو کچھ ہے پلٹ کر خود لے لے“ ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3241]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دھوکا دہی کے لیے بھاؤ نہ بڑھاؤ، کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے۔ کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر اپنا پیغام بھیجے۔ اور نہ کوئی عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ کرے کہ اس کے برتن میں جو ہے اسے الٹا دے (اسے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم کر دے)۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3241]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 58 (2140)، الشروط 8 (2723)، النکاح 45 (5144)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1413)، سنن ابی داود/النکاح 18 (2080) مختصراً، سنن الترمذی/النکاح 38 (1134) مختصراً، سنن ابن ماجہ/النکاح 10 (1867) مختصراً، (تحفة الأشراف: 13123)، مسند احمد (2/238، 274)، سنن الدارمی/النکاح 7 (2221) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «نجش» اس بیع کو کہتے ہیں کہ جس میں سامان کی تشہیر اور قیمت میں اضافہ کی غرض سے سامان کی خوب خوب تعریف کی جائے، یا سامان کا بھاؤ اس کی خریداری کی نیت کئے بغیر بڑھایا جائے۔ ۲؎: یعنی اس کے سامان کی فروخت کے لیے دلالی نہ کرے، کیونکہ دلالی کی صورت میں دیگر شہریوں کو ضرر لاحق ہو گا، جب کہ دیہاتی اگر خود سے بیچے تو سستی قیمت میں بیچے گا۔ ۳؎: یعنی یہ خیال نہ کرے کہ جب سوکن مطلقہ ہو جائے گی، اور شوہر سے محروم ہو جائے گی تو اس کا حصہ خود اسے مل جائے گا، کیونکہ جس کے نصیب میں جو لکھا جا چکا ہے وہی ملے گا، پھر سوکن کے حق میں ناحق طلاق کی درخواست کا کیا فائدہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3242
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ دے“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3242]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے (دینی) بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3242]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13968)، موطا امام مالک/النکاح 1 (1)، مسند احمد (2/462) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3243
أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَتْرُكَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھائی کہیں نکاح کا پیغام دے چکا ہے، تو کوئی دوسرا مسلمان بھائی اس جگہ جب تک کہ نکاح ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ نہ ہو جائے (نیا) پیغام نہ دے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3243]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجے حتیٰ کہ وہ نکاح کر لے یا پیغام چھوڑ دے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3243]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13372) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی انتظار کرے، اگر وہ نکاح کر لیتا ہے تو یہ پیغام نکاح ترک کر دے، اور اگر وہ ترک کر دیتا ہے تو پیغام بھیجے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3244
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر کوئی دوسرا پیغام نکاح نہ دے“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3244]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی (دینی) بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3244]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 14545)، مسند احمد (2/489) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4446
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنِ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت بھیجی جس نے ایسی چیز کو نشانہ بنایا جو جاندار ہو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4446]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو کسی جاندار کو نشانہ بنائے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 25 (5515)، صحیح مسلم/الصید 11(1958)، (تحفة الأشراف: 7054)، مسند احمد 1/338 و2/13، 43، 60، 86، 103، 141)، سنن الدارمی/الأضاحی 13 (2016) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نشانہ بازی کے مقصد سے نشانہ بنایا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4447
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ اس پر لعنت فرمائے جو جانوروں کا مثلہ کرے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4447]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت فرمائے جو کسی جاندار کا مثلہ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کسی جاندار کے ہاتھ پاؤں ناک اور کان وغیرہ اعضاء کو کاٹ کر اس کی شکل و صورت بگاڑ دینے کو مثلہ کہتے ہیں، مثلہ حرام ہے خواہ انسان کا ہو یا جانور کا، اور کسی حلال جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کے گوشت کی بوٹیاں بنانے کی کے مقصد سے اس کے ٹکڑے کرنا مثلہ نہیں ہے، مثلہ میں فقط شبیہ بگاڑ کر پھینک دینا مقصود ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4492
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ لِلْبَيْعِ , وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ , مَنِ ابْتَاعَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ , فَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا , وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهَا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعُ تَمْرٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگے جا کر تجارتی قافلے سے مت ملو ۱؎ اور اونٹنیوں اور بکریوں کو ان کے تھنوں میں دودھ روک کر نہ رکھو ۲؎، اگر کسی نے ایسا جانور خرید لیا تو اسے اختیار ہے چاہے تو اسے رکھ لے اور چاہے تو اسے لوٹا دے اور (لوٹاتے وقت) اس کے ساتھ ایک صاع کھجور دیدے“ ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4492]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلے والے قافلوں کو (منڈی سے باہر جا کر) خرید و فروخت کے لیے نہ ملو اور اونٹنی یا بکری کا دودھ نہ روکو۔ جو شخص ایسا جانور خرید لے تو اسے (دودھ دوہنے کے بعد) دو چیزوں میں سے بہتر کا اختیار ہے۔ اگر چاہے تو جانور رکھ لے اور اگر واپس کرنا چاہے تو واپس کر دے اور اس کے ساتھ کھجوروں کا ایک صاع بھی دے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4492]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13722) مسند احمد (2/242، 243) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ باہر سے آنے والے تاجر کو بازار کی قیمت کا صحیح علم نہیں ہے اس لیے بازار میں پہنچنے سے پہلے اس سے سامان خریدنے میں تاجر کو دھوکہ ہو سکتا ہے، اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاجروں کے بازار میں پہنچنے سے پہلے ان سے مل کر ان کا سامان خریدنے سے منع فرما دیا ہے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو تاجر کو اختیار حاصل ہو گا بیع کے نفاذ اور عدم نفاذ کے سلسلہ میں۔ ۲؎: تھن میں دو یا تین دن تک دودھ چھوڑے رکھنے اور نہ دوہنے کو «تصریہ» کہتے ہیں تاکہ اونٹنی یا بکری دودھاری سمجھی جائے اور جلد اور اچھے پیسوں میں بک جائے۔ ۳؎: تاکہ وہ اس دودھ کا بدل بن سکے جو خریددار نے دوہ لیا ہے، نیز واضح رہے کہ کسی ثابت شدہ حدیث کی تردید یہ کہہ کر نہیں کی جا سکتی کہ کسی مخالف اصل سے اس کا ٹکراؤ ہے یا اس میں مثلیت نہیں پائی جا رہی ہے اس لیے عقل اسے تسلیم نہیں کرتی، بلکہ شریعت سے جو چیز ثابت ہو وہی اصل ہے اور اس پر عمل واجب ہے، اسی طرح حدیث مصراۃ ان احادیث میں سے ہے جو صحیح اور ثابت شدہ ہیں لہٰذا کسی قیل و قال کے بغیر اس پر عمل واجب ہے۔ کسی قیاس سے اس کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4496
أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّلَقِّي , وَأَنْ يَبِيعَ مُهَاجِرٌ لِلْأَعْرَابِيِّ , وَعَنِ التَّصْرِيَةِ , وَالنَّجْشِ , وَأَنْ يَسْتَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ , وَأَنْ تَسْأَلَ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر نکل کر سامان خریدنے سے، مہاجر (شہری) کو دیہاتی کا مال بیچنے سے ۱؎، جانوروں کے تھن میں قیمت بڑھانے کے مقصد سے دودھ چھوڑنے سے، خود خریدنا مقصود نہ ہو لیکن دوسرے کو ٹھگانے کے لیے بڑھ بڑھ کر قیمت لگانے سے اور اپنے بھائی کے مول پر بھاؤ بڑھانے سے اور اپنی سوکن ۲؎ کے لیے طلاق کا مطالبہ کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4496]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ”کوئی تاجر تجارتی قافلے کو منڈی سے باہر جا کر ملے، یا کوئی شہری کسی اعرابی (دیہاتی) کی کوئی چیز بیچے، یا کوئی اپنے جانور کا دودھ روکے، یا کوئی شخص ناجائز بھاؤ بڑھائے یا کوئی شخص کسی دوسرے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ کرے۔ یا کوئی عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4496]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «الشروط 8 (2723)، 11(2727)، النکاح 53 (5152)، القدر 4 (6601)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1413)، البیوع 4 (1515)، (تحفة الأشراف: 13411) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «تلقی» (شہر سے باہر جا کر بازار آنے والے تاجر کا مال خریدنے) میں نیز دیہات سے شہر کے بازار میں مال لانے والے سے بازار سے پہلے ہی مال خرید لینے میں اس طرح کے دونوں تاجروں نیز شہر کے عام باشندوں کو بھی نقصان کا اندیشہ ہے اس لیے اس طرح کی خریداری سے منع کر دیا گیا ہے تاجر کا نقصان اس طرح ہو سکتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ بازار میں سامان کا بھاؤ زیادہ ہو اور تاجر کا نقصان ہو جائے اور شہر کے باشندوں کا نقصان اس طرح ہو گا کہ درمیان میں ایک اور واسطہ ہو جانے کے سبب سامان کا بھاؤ زیادہ ہو جائے۔ ۲؎: یعنی ہونے والی سوکن، اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنی کسی بیوی کی موجودگی میں کسی دوسری عورت کو نکاح کا پیغام دے تو وہ عورت اس سے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے دینے کی شرط رکھے، یہ ممنوع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4497
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ , قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ , وَإِنْ كَانَ أَبَاهُ أَوْ أَخَاهُ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ شہری دیہاتی کا سامان بیچے، گرچہ وہ اس کا باپ یا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4497]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال بیچے، اگرچہ وہ اس کا باپ یا بھائی ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4497]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 47 (3440)، (تحفة الأشراف: 525) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4500
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ , دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، لوگوں کو چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ رزق (روزی) فراہم کرتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4500]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، بلکہ لوگوں کو خود بیچنے دو تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ایک دوسرے سے رزق عطا فرمائے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4500]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2872)، مسند احمد (3/307، 312، 312، 386، 392) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4501
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ لِلْبَيْعِ , وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ , وَلَا تَنَاجَشُوا , وَلَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجارتی قافلے سے (مال) خریدنے کے لیے باہر نکل کر نہ ملو، اور تم میں سے کوئی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے، نہ بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا کام کرو اور نہ شہری دیہاتی کا سامان بیچے“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4501]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سودے کرنے کے لیے تجارتی قافلوں کو منڈی سے باہر جا کر نہ ملو، اور کوئی شخص دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اور ناجائز بھاؤ نہ بڑھاؤ، اور شہری دیہاتی کا مال نہ بیچے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4501]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 64 (2150)، صحیح مسلم/البیوع 4 (1515)، سنن ابی داود/البیوع 48 (3443)، (تحفة الأشراف: 13802)، موطا امام مالک/البیوع 45 (96)، مسند احمد (2/379، 465) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4502
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ بْنِ أَعْيَنَ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّجْشِ وَالتَّلَقِّي , وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے سے، شہری کا باہر جا کر دیہاتی سے مال لینے سے اور اس بات سے منع فرمایا کہ شہری دیہاتی کا سامان بیچے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4502]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بھاؤ بڑھانے، تجارتی قافلوں کو آگے جا کر ملنے اور شہری کو دیہاتی کا مال بیچنے“ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4502]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفردہ بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8264)، مسند احمد (2/7، 42، 63، 153، 156) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4503
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ التَّلَقِّي".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارتی قافلے سے آگے جا کر ملنے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4503]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی تاجر منڈی سے باہر جا کر تجارتی قافلے کو ملے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4503]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 4 (1517)، (تحفة الأشراف: 8181)، مسند احمد (2/2) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4504
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ , وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ" , قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ؟ , قَالَ: لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی آگے جا کر تجارتی قافلے سے ملے، اور کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان بیچے، (راوی طاؤس کہتے ہیں:) میں نے ابن عباس سے کہا: اس قول ”کوئی شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے“ کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: یعنی شہری دلال نہ بنے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4504]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ: ”کوئی تاجر منڈی اور بازار سے باہر ہی تجارتی قافلے کو ملے یا کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال بیچے۔“ (راویِ حدیث جنابِ طاؤس رحمہ اللہ نے کہا کہ) میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: شہری کو دیہاتی کا مال بیچنے سے روکنے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ اس کا دلال نہ بنے۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4504]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 68 (2158)، 71 (2163)، الإجارة 14 (2274)، صحیح مسلم/البیوع 6 (1521)، سنن ابی داود/البیوع 47 (3439)، سنن ابن ماجہ/التجارات 15 (2177)، (تحفة الأشراف: 5706)، مسند احمد (1/368) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4505
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ , أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ سِيرِينَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَلَقَّوْا الْجَلْبَ , فَمَنْ تَلَقَّاهُ فَاشْتَرَى مِنْهُ , فَإِذَا أَتَى سَيِّدُهُ السُّوقَ فَهُوَ بِالْخِيَارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگے جا کر تجارتی قافلے سے نہ ملو، جو اس سے جا کر ملا اور اس سے کوئی چیز خرید لی، جب اس کا مالک بازار آئے تو اسے اختیار ہو گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4505]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”تجارتی قافلوں کو منڈی سے باہر جا کر نہ ملو۔ اگر کوئی تاجر منڈی سے باہر جا کر ملے گا اور قافلے سے کوئی چیز خریدے گا تو جب قافلہ بازار میں پہنچے گا، مالک کو اختیار ہو گا کہ وہ سودا واپس کر لے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4505]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 5 (1519)، (تحفة الأشراف: 14538)، مسند احمد (2/284، 403، 488) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چاہے تو پہلی قیمت پر جو باہر نکل کر لگائی تھی فروخت کر دے یا بازار کی قیمت پر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4506
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ , وَلَا تَنَاجَشُوا , وَلَا يُسَاوِمْ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ , وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ , وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا وَلِتُنْكَحَ , فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال ہرگز نہ بیچے، اور نہ بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا کام کرو، اور نہ آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ لگائے، اور نہ (مسلمان) بھائی کی شادی کے پیغام پر پیغام بھیجے اور نہ عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو اس کے برتن میں ہے اسے بھی اپنے لیے انڈیل لے (یعنی جو اس کی قسمت میں تھا وہ اسے مل جائے) بلکہ (بلا مطالبہ و شرط) نکاح کرے، کیونکہ اسے وہی ملے گا جو اس کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے لکھا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4506]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے، دھوکے سے بھاؤ نہ بڑھاؤ، کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ کرے اور نہ اس کے پیغامِ نکاح پر پیغام بھیجے اور نہ کوئی عورت اپنی (سوکن) بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ اس کے برتن کو انڈیل دے، بلکہ اسے چاہیے کہ وہ بھی نکاح کرے، جو اس کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے لکھا ہے، اسے مل جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4506]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشروط 11 (2723)، صحیح مسلم/النکاح 6 (1413)، (تحفة الأشراف: 13271)، ویأتي عند المؤلف: 4511) مسند احمد (2/274، 487) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4507
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكٍ , وَاللَّيْثُ , وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَبِيعُ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے (مسلمان) بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4507]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنے (مسلمان) بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4507]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3240 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4508
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَبْتَاعَ , أَوْ يَذَرَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے یہاں تک کہ وہ اسے خرید لے یا چھوڑ دے“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4508]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے حتیٰ کہ وہ خرید لے یا چھوڑ دے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8112) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4511
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ , وَلَا تَنَاجَشُوا , وَلَا يَزِيدُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ , وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَكْفِئَ بِهِ مَا فِي صَحْفَتِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، اور نہ کوئی فرضی بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا کام کرے، اور نہ آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اضافہ کرے، اور نہ عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو اس کے برتن میں ہے اسے اپنے میں انڈیل لے“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4511]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے۔ بھاؤ نہ بڑھاؤ۔ کوئی شخص اپنے بھائی کے طے شدہ سودے پر اضافے کا لالچ نہ دے اور کوئی عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے برتن کو انڈیل دے۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4506 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4512
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَخْضَرُ بْنُ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَاعَ قَدَحًا وَحِلْسًا فِيمَنْ يَزِيدُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالا اور ایک کمبل نیلام کیا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4512]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ اور ایک ٹاٹ نیلامی کے ذریعے سے بیچا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 4512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 26 (1641)، سنن الترمذی/البیوع10(1218)، سنن ابن ماجہ/التجا رات25(2198)، (تحفة الأشراف: 978)، مسند احمد (3/100، 114، 126) (ضعیف) 1؎ (اس کے راوی ’’ابوبکر حنفی‘‘ مجہول ہیں)»
وضاحت: ۱؎: انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سند کے لحاظ سے ضعیف ہے، مگر خرید و فروخت کے معاملات میں حرمت کی جو بنیاد ہے بیع مزایدہ (نیلام) پر صادق نہیں آتی، کیونکہ اس معاملہ میں بیچنے والے کی رائے کسی بھاؤ پر حتمی اور آخری نہیں اس لیے دوسرے خریدار کو بھاؤ بڑھا کر سودا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح