الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب الْحَجِّ
حج کے احکام و مسائل
The Book of Pilgrimage
88. بَابُ: اَلْمَدِينَهُ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتُسمَّي طَابَةُ وَّ طَيْبَهٌ
باب: مدینہ منورہ کا خبیث چیزوں سے پاک ہونے اور مدینہ کا نام طابہ اور طیبہ رکھے جانے کا بیان۔
Chapter: Al-Madinah eliminates its Dross and it is also called Tabah, and Taibah
حدیث نمبر: 3352
Save to word اعراب
حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا عبد العزيز يعني الدراوردي ، عن العلاء ، عن ابيه ، عن ابي هريرة : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " ياتي على الناس زمان يدعو الرجل ابن عمه، وقريبه هلم إلى الرخاء هلم إلى الرخاء والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون، والذي نفسي بيده، لا يخرج منهم احد رغبة عنها، إلا اخلف الله فيها خيرا منه، الا إن المدينة كالكير تخرج الخبيث لا تقوم الساعة حتى تنفي المدينة شرارها، كما ينفي الكير خبث الحديد ".حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَدْعُو الرَّجُلُ ابْنَ عَمِّهِ، وَقَرِيبَهُ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَخْرُجُ مِنْهُمْ أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا، إِلَّا أَخْلَفَ اللَّهُ فِيهَا خَيْرًا مِنْهُ، أَلَا إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تُخْرِجُ الْخَبِيثَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ".
‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک وقت لوگوں پر ایسا آئے گا کہ آدمی اپنے بھتیجے کو، اپنے قرابت والے کو پکارے گا کہ آؤ ارزانی کے ملک میں، آؤ ارزانی کے ملک میں اور مدینہ ان کے لئے بہتر ہو گا کاش کہ وہ جانتے ہوتے اور قسم ہے اس پروردگار کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے کہ کوئی شخص مدینہ سے بیزار ہو کر نہیں نکلتا ہے، کہ االلہ تعالٰی اس سے بہتر دوسرا شخص بھیج دیتا ہے مدینہ میں۔ آگاہ ہو کہ مدینہ ایسا ہے جیسے لوہار کی بھٹی کہ نکال دیتا ہے میل کو اور قیامت قائم نہ ہو گی جب تک مدینہ نہ نکال دے گا اپنے شریر لوگوں کو جیسے کہ بھٹی نکال دیتی ہے لوہے کی میل کو۔
حدیث نمبر: 3353
Save to word اعراب
وحدثنا قتيبة بن سعيد ، عن مالك بن انس ، فيما قرئ عليه، عن يحيى بن سعيد ، قال: سمعت ابا الحباب سعيد بن يسار ، يقول: سمعت ابا هريرة ، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " امرت بقرية تاكل القرى، يقولون: يثرب وهي المدينة، تنفي الناس كما ينفي الكير خبث الحديد "،وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحُبَابِ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى، يَقُولُونَ: يَثْرِبَ وَهِيَ الْمَدِينَةُ، تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ "،
‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: کہ مجھے حکم ہوا ہے یعنی (ہجرت کا) ایسے قریہ کی طرف جو سب قریوں کو کھا جائے گا لوگ اسے یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے اور لوگوں کو ایسا چھانٹتا ہے جیسے لوہے کی بھٹی میل چھانٹتی ہے۔
حدیث نمبر: 3354
Save to word اعراب
وحدثنا عمرو الناقد ، وابن ابي عمر ، قالا: حدثنا سفيان . ح وحدثنا ابن المثنى ، حدثنا عبد الوهاب ، جميعا عن يحيى بن سعيد ، بهذا الإسناد، وقالا: كما ينفي الكير الخبث، لم يذكرا: الحديد.وحدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حدثنا سُفْيَانُ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ الْخَبَثَ، لَمْ يَذْكُرَا: الْحَدِيدَ.
‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث روایت کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 3355
Save to word اعراب
حدثنا يحيى بن يحيى ، قال: قرات على مالك ، عن محمد بن المنكدر ، عن جابر بن عبد الله : ان اعرابيا بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاصاب الاعرابي وعك بالمدينة، فاتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا محمد، اقلني بيعتي، فابى رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم جاءه، فقال: اقلني بيعتي فابى، ثم جاءه، فقال: اقلني بيعتي، فابى فخرج الاعرابي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إنما المدينة كالكير تنفي خبثها، وينصع طيبها ".حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَهُ، فقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى، ثُمَّ جَاءَهُ، فقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا، وَيَنْصَعُ طَيِّبُهَا ".
‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک گاؤں کا آدمی تھا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور اس کو شدت سے بخار آنے لگا مدینہ میں پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی یہ یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھ سے اپنی بیعت پھیر لو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا اور پھر آیا اور کہا کہ یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھ سے اپنی بیعت پھیر لو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انکار کیا اور وہ پھر آیا اور کہا کہ یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھ سے اپنی بیعت پھیر لو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا اور وہ اعرابی مدینہ سے چلا گیا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ تو بھٹی کے مانند ہے کہ اپنی میل کو دور کر دیتا ہے اور پاک کو خالص اور صاف کر لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 3356
Save to word اعراب
وحدثنا عبيد الله بن معاذ وهو العنبري ، حدثنا ابي ، حدثنا شعبة ، عن عدي وهو ابن ثابت ، سمع عبد الله بن يزيد ، عن زيد بن ثابت ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " إنها طيبة يعني المدينة، وإنها تنفي الخبث، كما تنفي النار خبث الفضة ".وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَهُوَ الْعَنْبَرِيُّ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّهَا طَيْبَةُ يَعْنِي الْمَدِينَةَ، وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ، كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ ".
‏‏‏‏ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ طیبہ ہے یعنی مدینہ اور پہلے پہل یہ مدینہ میل کو دور کرتا ہے جیسے آگ چاندی کی میل کو دور کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 3357
Save to word اعراب
وحدثنا قتيبة بن سعيد ، وهناد بن السري ، وابو بكر بن ابي شيبة ، قالوا: حدثنا ابو الاحوص ، عن سماك ، عن جابر بن سمرة ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " إن الله تعالى سمى المدينة: طابة ".وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالُوا: حدثنا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى سَمَّى الْمَدِينَةَ: طَابَةَ ".
‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جل جلالہ نے نام رکھا مدینہ کا طابہ۔

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.