الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 

صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب الْإِمَارَةِ
امور حکومت کا بیان
5. باب فَضِيلَةِ الإِمَامِ الْعَادِلِ وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ:
باب: حاکم عادل کی فضیلت اور حاکم ظالم کی برائی۔
حدیث نمبر: 4721
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وزهير بن حرب ، وابن نمير ، قالوا: حدثنا سفيان بن عيينة ، عن عمرو يعني ابن دينار ، عن عمرو بن اوس ، عن عبد الله بن عمرو ، قال ابن نمير، وابو بكر: يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم، وفي حديث زهير، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن المقسطين عند الله على منابر من نور عن يمين الرحمن عز وجل، وكلتا يديه يمين الذين يعدلون في حكمهم واهليهم وما ولوا ".حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو بَكْرٍ: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللَّهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا ".
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو لوگ انصاف کرتے ہیں وہ اللہ عزوجل کے پاس منبروں پر ہوں گے پروردگار کے داہنی طرف اور اس کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں (یعنی بائیں ہاتھ میں جو داہنے سے قوت کم ہوتی ہے یہ بات اللہ تعالیٰ میں نہیں کیونکہ وہ ہر عیب سے پاک ہے) اور یہ انصاف کرنے والے وہ لوگ ہیں جو حکم کرتے وقت انصاف کرتے ہیں اور اپنے بال بچوں اور عزیزوں میں انصاف کرتے ہیں اور جو کام ان کو دیا جائے اس میں انصاف کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4722
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثني هارون بن سعيد الايلي ، حدثنا ابن وهب ، حدثني حرملة ، عن عبد الرحمن بن شماسة ، قال: اتيت عائشة اسالها عن شيء، فقالت: " ممن انت؟، فقلت: رجل من اهل مصر، فقالت: كيف كان صاحبكم لكم في غزاتكم هذه؟، فقال: ما نقمنا منه شيئا إن كان ليموت للرجل منا البعير، فيعطيه البعير، والعبد فيعطيه العبد، ويحتاج إلى النفقة فيعطيه النفقة، فقالت: اما إنه لا يمنعني الذي فعل في محمد بن ابي بكر اخي ان اخبرك ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: في بيتي هذا اللهم من ولي من امر امتي شيئا، فشق عليهم فاشقق عليه، ومن ولي من امر امتي شيئا فرفق بهم فارفق به "،حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَتْ: " مِمَّنْ أَنْتَ؟، فَقُلْتُ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، فَقَالَتْ: كَيْفَ كَانَ صَاحِبُكُمْ لَكُمْ فِي غَزَاتِكُمْ هَذِهِ؟، فَقَالَ: مَا نَقَمْنَا مِنْهُ شَيْئًا إِنْ كَانَ لَيَمُوتُ لِلرَّجُلِ مِنَّا الْبَعِيرُ، فَيُعْطِيهِ الْبَعِيرَ، وَالْعَبْدُ فَيُعْطِيهِ الْعَبْدَ، وَيَحْتَاجُ إِلَى النَّفَقَةِ فَيُعْطِيهِ النَّفَقَةَ، فَقَالَتْ: أَمَا إِنَّهُ لَا يَمْنَعُنِي الَّذِي فَعَلَ فِي مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَخِي أَنْ أُخْبِرَكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فِي بَيْتِي هَذَا اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ "،
‏‏‏‏ عبدالرحمٰن بن شماسہ سے روایت ہے، میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا کچھ پوچھنے کو۔ انہوں نے پوچھا کہ تو کون سے لوگوں میں سے ہے؟ میں نے کہا: مصر والوں میں سے، انہوں نے کہا: تمہارے حاکم کا کیا حال تھا اس لڑائی میں؟ (یعنی محمد بن ابی بکر کا جن کو سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حاکم کیا تھا مصر کا قیس بن سعد کو معزول کر کے) میں نے کہا: ان کی تو کوئی بات ہم نے بری نہیں دیکھی ہم میں سے کسی کا اونٹ مر جاتا تو اس کو اونٹ دیتے اور غلام مر جاتا تو غلام دیتے اور خرچ کی احتیاج ہوتی تو خرچ دیتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: محمد بن ابی بکر میرے بھائی کو جو حال ہوا (کہ مارا گیا اور لاش مرداروں میں پھینکی گئی پھر جلائی گئی) یہ مجھے اس امر کے بیان کرنے سے نہیں روکتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اس کوٹھڑی میں:یااللہ! جو کوئی میری امت کا حاکم ہو پھر وہ ان پر سختی کرے تو تو بھی ان پر سختی کر اور جو کوئی میری امت کا حاکم ہو اور وہ ان پر نرمی کرے تو بھی اس پر نرمی کر۔
حدیث نمبر: 4723
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثني محمد بن حاتم ، حدثنا ابن مهدي ، حدثنا جرير بن حازم ، عن حرملة المصري ، عن عبد الرحمن بن شماسة ، عن عائشة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثله.وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
حدیث نمبر: 4724
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث . ح وحدثنا محمد بن رمح ، حدثنا الليث ، عن نافع ، عن ابن عمر ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، انه قال: " الا كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته، فالامير الذي على الناس راع وهو مسئول عن رعيته، والرجل راع على اهل بيته وهو مسئول عنهم، والمراة راعية على بيت بعلها وولده وهي مسئولة عنهم، والعبد راع على مال سيده وهو مسئول عنه، الا فكلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته "،حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ "،
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور ہر ایک سے سوال ہو گا اس کی رعیت کا (حاکم سے مراد منتظم اور نگران کار اور محافظ ہے) پھر جو کوئی بادشاہ ہے وہ لوگوں کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا۔ اس کی رعیت کا کہ اس نے اپنی رعیت کے حق ادا کیے ان کی جان و مال کی حفاظت کی یا نہیں اور آدمی حاکم ہے اپنے گھر والوں کا اس سے سوال ہو گا ان کا اور عورت حاکم ہے اپنے خاوند کے گھر کی اور بچوں کی اس سے ان کا سوال ہو گا اور غلام حاکم ہے اپنے مالک کے مال کا اس سے اس کا سوال ہو گا۔ غرض یہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک شخص حاکم ہے اور تم میں سے ہر ایک سے سوال ہو گا اس کی رعیت کا۔
حدیث نمبر: 4725
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا محمد بن بشر . ح وحدثنا ابن نمير ، حدثنا ابي . ح وحدثنا ابن المثنى ، حدثنا خالد يعني ابن الحارث . ح. وحدثنا عبيد الله بن سعيد ، حدثنا يحيي يعني القطان كلهم، عن عبيد الله بن عمر . ح وحدثنا ابو الربيع ، وابو كامل ، قالا: حدثنا حماد بن زيد . ح وحدثني زهير بن حرب ، حدثنا إسماعيلجميعا، عن ايوب . ح وحدثني محمد بن رافع ، حدثنا ابن ابي فديك ، اخبرنا الضحاك يعني ابن عثمان . ح وحدثنا هارون بن سعيد الايلي ، حدثنا ابن وهب ، حدثني اسامة كل هؤلاء، عن نافع ، عن ابن عمر مثل حديث الليث، عن نافع،وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح. وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي يَعْنِي الْقَطَّانَ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُجَمِيعًا، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ، عَنْ نَافِعٍ،
‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
حدیث نمبر: 4726
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
قال ابو إسحاق وحدثنا الحسن بن بشر، حدثنا عبد الله بن نمير، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر بهذا مثل حديث الليث، عن نافع،قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِهَذَا مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ، عَنْ نَافِعٍ،
‏‏‏‏ اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 4727
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا يحيي بن يحيي ، ويحيى بن ايوب ، وقتيبة بن سعيد ، وابن حجر كلهم، عن إسماعيل بن جعفر ، عن عبد الله بن دينار ، عن ابن عمر ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم. ح وحدثني حرملة بن يحيي ، اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب عن سالم بن عبد الله ، عن ابيه ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول بمعنى حديث نافع، عن ابن عمر، وزاد في حديث الزهري، قال: وحسبت انه قد قال الرجل راع في مال ابيه ومسئول عن رعيته،وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَدْ قَالَ الرَّجُلُ رَاعٍ فِي مَالِ أَبِيهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ،
‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا اور اس میں یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے مال کا محافظ ہے اور سوال ہوگا اس کا۔
حدیث نمبر: 4728
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثني احمد بن عبد الرحمن بن وهب ، اخبرني عمي عبد الله بن وهب ، اخبرني رجل سماه، وعمرو بن الحارث ، عن بكير ، عن بسر بن سعيد حدثه، عن عبد الله بن عمر ، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا المعنى.وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ سَمَّاهُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَى.
‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
حدیث نمبر: 4729
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا شيبان بن فروخ ، حدثنا ابو الاشهب ، عن الحسن ، قال: عاد عبيد الله بن زياد معقل بن يسار المزني في مرضه الذي مات فيه، فقال: معقل إني محدثك حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، لو علمت ان لي حياة ما حدثتك، إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " ما من عبد يسترعيه الله رعية يموت يوم يموت وهو غاش لرعيته، إلا حرم الله عليه الجنة "،وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ: عَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزَنِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ: مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ، إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ "،
‏‏‏‏ حسن سے روایت ہے عبیداللہ بن زیاد معقل بن یسار کے پوچھنے کو آیا جس بیماری میں وہ مر گئے تو معقل نے کہا: میں ایک حدیث تجھ سے بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور اگر میں جانتا کہ ابھی زندہ رہوں گا تو تجھ سے بیان نہ کرتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:کوئی بندہ ایسا نہیں جس کو اللہ تعالیٰ ایک رعیت دے دے پھر وہ مرے اور جس دن وہ مرے وہ خیانت کرتا ہو اپنی رعیت کے حقوق میں مگر اللہ تعالیٰ حرام کر دے گا اس پر جنت کو۔
حدیث نمبر: 4730
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثناه يحيي بن يحيي ، اخبرنا يزيد بن زريع ، عن يونس ، عن الحسن ، قال: دخل ابن زياد على معقل بن يسار وهو وجع بمثل حديث ابي الاشهب، وزاد، قال: الا كنت حدثتني هذا قبل اليوم، قال: ما حدثتك او لم اكن لاحدثك.وحَدَّثَنَاه يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ: دَخَلَ ابْنُ زِيَادٍ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَهُوَ وَجِعٌ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الْأَشْهَبِ، وَزَادَ، قَالَ: أَلَّا كُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا قَبْلَ الْيَوْمِ، قَالَ: مَا حَدَّثْتُكَ أَوْ لَمْ أَكُنْ لِأُحَدِّثَكَ.
‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اتنا زیادہ ہے کہ ابن زیاد نے پوچھا: تم نے یہ حدیث مجھ سے پہلے کیوں نہیں بیان کی۔ انہوں نے کہا: میں نے تیرے لیے نہیں بیان کی یا میں تجھ سے کیوں بیان کرتا۔
حدیث نمبر: 4731
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا ابو غسان المسمعي ، وإسحاق بن إبراهيم ، ومحمد بن المثنى ، قال إسحاق اخبرنا، وقال الآخران حدثنا معاذ بن هشام ، حدثني ابي ، عن قتادة ، عن ابي المليح : ان عبيد الله بن زياد دخل على معقل بن يسار في مرضه، فقال له معقل : " إني محدثك بحديث لولا اني في الموت لم احدثك به، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: ما من امير يلي امر المسلمين ثم لا يجهد لهم وينصح، إلا لم يدخل معهم الجنة "،وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ : أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ دَخَلَ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ : " إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ لَوْلَا أَنِّي فِي الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ لَا يَجْهَدُ لَهُمْ وَيَنْصَحُ، إِلَّا لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ "،
‏‏‏‏ ابوملیح رحمہ اللہ سے روایت ہے، عبیداللہ بن زیاد نے بیمار پرسی کی سیدنا معقل رضی اللہ عنہ کی ان کی بیماری میں تو سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تجھ سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں مرنے والا نہ ہوتا تو تجھ سے بیان نہ کرتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جو حاکم ہو مسلمانوں کا پھر ان کی بھلائی میں کوشش نہ کرے اور خالص نیت سے ان کی بہتری نہ چاہے تو وہ ان کے ساتھ جنت میں نہ جائے گا۔ (بلکہ پیچھے رہ جائے گا اور اپنی ناانصافی کا عذاب بھگتے گا)۔
حدیث نمبر: 4732
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا عقبة بن مكرم العمي ، حدثنا يعقوب بن إسحاق ، اخبرني سوادة بن ابي الاسود ، حدثني ابي ان معقل بن يسار مرض، فاتاه عبيد الله بن زياد يعوده نحو حديث الحسن، عن معقل.وحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ مَرِضَ، فَأَتَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ نَحْوَ حَدِيثِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلٍ.
‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
حدیث نمبر: 4733
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا شيبان بن فروخ ، حدثنا جرير بن حازم ، حدثنا الحسن ، ان عائذ بن عمرو ، وكان من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، دخل على عبيد الله بن زياد، فقال: اي بني إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " إن شر الرعاء الحطمة، فإياك ان تكون منهم، فقال له: اجلس، فإنما انت من نخالة اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم، فقال: وهل كانت لهم نخالة؟، إنما كانت النخالة بعدهم وفي غيرهم ".حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، أَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ، فَقَالَ لَهُ: اجْلِسْ، فَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَهَلْ كَانَتْ لَهُمْ نُخَالَةٌ؟، إِنَّمَا كَانَتِ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ وَفِي غَيْرِهِمْ ".
‏‏‏‏ حسن سے روایت ہے، سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے وہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور اس سے کہا: اے بیٹے میرے! میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، فرماتے تھے: سب سے برا چرواہا ظالم بادشاہ ہے (جو رعیت کو تباہ کر دے) تو ایسا نہ ہونا۔ عبیداللہ نے کہا: بیٹھ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کی بھوسی ہے۔ عائذ نے کہا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں بھی بھوسی تھی بھوسی تو بعد والوں میں ہے اور غیر لوگوں میں۔

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.