الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 

صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب الْإِمَارَةِ
امور حکومت کا بیان
18. باب اسْتِحْبَابِ مُبَايَعَةِ الإِمَامِ الْجَيْشَ عِنْدَ إِرَادَةِ الْقِتَالِ وَبَيَانِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ:
باب: لڑائی کے وقت مجاہدین سے بیعت لینا مستحب ہے اور شجرہ کے نیچے بیعت رضوان کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 4807
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث بن سعد . ح وحدثنا محمد بن رمح ، اخبرنا الليث ، عن ابي الزبير ، عن جابر ، قال: كنا يوم الحديبية الفا واربع مائة، فبايعناه وعمر آخذ بيده تحت الشجرة وهي سمرة، وقال: " بايعناه على ان لا نفر ولم نبايعه على الموت ".حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةً، فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ، وَقَالَ: " بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ ".
‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم حدیبیہ کے دن ایک ہزار چار سو آدمی تھے تو ہم نے بیعت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑے ہوئے شجرہ رضوان کے تلے تھے اور وہ سمرہ کا درخت تھا (سمرہ ایک جنگلی درخت ہے جو ریگستان میں ہوتا ہے) اور ہم نے بیعت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شرط پر کہ نہ بھاگیں گے اور یہ بیعت نہیں کی کہ مر جائیں گے۔
حدیث نمبر: 4808
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا ابن عيينة . ح وحدثنا ابن نمير ، حدثنا سفيان ، عن ابي الزبير ، عن جابر ، قال: " لم نبايع رسول الله صلى الله عليه وسلم على الموت إنما بايعناه على ان لا نفر ".وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَوْتِ إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ ".
‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مر جانے پر بیعت نہیں کہ بلکہ نہ بھاگنے پر کی۔
حدیث نمبر: 4809
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا محمد بن حاتم ، حدثنا حجاج ، عن ابن جريج ، اخبرني ابو الزبير ، سمع جابرا يسال كم كانوا يوم الحديبية؟، قال: " كنا اربع عشرة مائة، فبايعناه، وعمر آخذ بيده تحت الشجرة وهي سمرة فبايعناه "، غير جد بن قيس الانصاري اختبا تحت بطن بعيره.وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، سَمِعَ جَابِرًا يَسْأَلُ كَمْ كَانُوا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ؟، قَالَ: " كُنَّا أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، فَبَايَعْنَاهُ، وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ فَبَايَعْنَاهُ "، غَيْرَ جَدِّ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ اخْتَبَأَ تَحْتَ بَطْنِ بَعِيرِهِ.
‏‏‏‏ ابوالزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ان سے پوچھا گیا کہ حدیبیہ کے دن کتنے آدمی تھے؟ انہوں نے کہا: ہم چودہ سو آدمی تھے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑے ہوئے سمرہ کے درخت کے تلے تھے، پھر ہم سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی مگر جد بن قیس انصاری نے بیعت نہیں کی وہ اپنے اونٹ کے پیٹ تلے چھپ رہا۔
حدیث نمبر: 4810
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثني إبراهيم بن دينار ، حدثنا حجاج بن محمد الاعور مولى سليمان بن مجالد، قال: قال ابن جريج : واخبرني ابو الزبير ، انه سمع جابرا يسال " هل بايع النبي صلى الله عليه وسلم بذي الحليفة؟، فقال: لا، ولكن صلى بها، ولم يبايع عند شجرة إلا الشجرة التي بالحديبية "، قال ابن جريج: واخبرني ابو الزبير، انه سمع جابر بن عبد الله يقول: دعا النبي صلى الله عليه وسلم على بئر الحديبية.وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ مُجَالِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَسْأَلُ " هَلْ بَايَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ؟، فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ صَلَّى بِهَا، وَلَمْ يُبَايِعْ عِنْدَ شَجَرَةٍ إِلَّا الشَّجَرَةَ الَّتِي بِالْحُدَيْبِيَةِ "، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِئْرِ الْحُدَيْبِيَةِ.
‏‏‏‏ ابوالزبیر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے پوچھا گیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لی ذوالحلیفہ میں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی اور کسی درخت کے پاس بیعت نہ لی مگر حدیبیہ کے درخت کے پاس۔ ابن جریج نے کہا: مجھ سے ابوالزبیر نے بیان کیا، انہوں نے سنا سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی حدیبیہ کے کنویں پر (اس کا پانی بڑھ گیا اور یہ قصہ اوپر گزر چکا۔)
حدیث نمبر: 4811
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا سعيد بن عمرو الاشعثي ، وسويد بن سعيد ، وإسحاق بن إبراهيم ، واحمد بن عبدة ، واللفظ لسعيد، قال سعيد وإسحاق: اخبرنا، وقال الآخران: حدثنا سفيان ، عن عمرو ، عن جابر ، قال: كنا يوم الحديبية الفا واربع مائة، فقال لنا النبي صلى الله عليه وسلم: " انتم اليوم خير اهل الارض "، وقال جابر: لو كنت ابصر لاريتكم موضع الشجرة.حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالَ سَعِيدٌ وَإِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ "، وقَالَ جَابِرٌ: لَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ لَأَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ الشَّجَرَةِ.
‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم حدیبیہ کے دن چودہ سو آدمی تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کے دن تم سب زمین والوں سے بہتر ہو۔ اور جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میری بینائی ہوتی تو میں تم کو اس درخت کا مقام دکھلا دیتا۔
حدیث نمبر: 4812
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا وحدثنا محمد بن المثنى ، وابن بشار ، قالا: حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة ، عن عمرو بن مرة ، عن سالم بن ابي الجعد ، قال: سالت جابر بن عبد الله عن اصحاب الشجرة، فقال: " لو كنا مائة الف لكفانا كنا الفا وخمس مائة ".وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، فَقَالَ: " لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ ".
‏‏‏‏ سالم بن ابی الجعد سے روایت ہے، میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اصحاب شجرہ کتنے آدمی تھے، انہوں نے کہا: اگر ہم لاکھ آدمی ہوتے تب بھی وہاں کا کنواں ہم کو کافی ہو جاتا (کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے اس کا پانی بہت بڑھ گیا تھا) ہم پندرہ سو آدمی تھے۔
حدیث نمبر: 4813
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابن نمير ، قالا: حدثنا عبد الله بن إدريس . ح وحدثنا رفاعة بن الهيثم ، حدثنا خالد يعني الطحان كلاهما، يقول: عن حصين ، عن سالم بن ابي الجعد ، عن جابر ، قال: " لو كنا مائة الف لكفانا كنا خمس عشرة مائة ".وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ . ح وحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ كِلَاهُمَا، يَقُولُ: عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً ".
‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم پندرہ سو تھے۔ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو (بھی وہ پانی) ہمیں کافی ہو جاتا۔
حدیث نمبر: 4814
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا وحدثنا عثمان بن ابي شيبة ، وإسحاق بن إبراهيم ، قال إسحاق: اخبرنا وقال عثمان: حدثنا جرير ، عن الاعمش ، حدثني سالم بن ابي الجعد ، قال: قلت لجابر : " كم كنتم يومئذ؟، قال: الفا واربع مائة ".وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ : " كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟، قَالَ: أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ ".
‏‏‏‏ سالم بن ابی الجعد نے کہا: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا: تم کتنے آدمی تھے اس دن؟ انہوں نے کہا: چودہ سو آدمی تھے۔
حدیث نمبر: 4815
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا حدثنا عبيد الله بن معاذ ، حدثنا ابي ، حدثنا شعبة ، عن عمرو يعني ابن مرة ، حدثني عبد الله بن ابي اوفى ، قال: " كان اصحاب الشجرة الفا وثلاث مائة، وكانت اسلم ثمن المهاجرين،حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: " كَانَ أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلَاثَ مِائَةٍ، وَكَانَتْ أَسْلَمُ ثُمْنَ الْمُهَاجِرِينَ،
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اصحاب شجرہ تیرہ سو آدمی تھے اور اسلم کے لوگ مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے۔
حدیث نمبر: 4816
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا ابن المثنى ، حدثنا ابو داود . ح وحدثناه إسحاق بن إبراهيم ، اخبرنا النضر بن شميل جميعا، عن شعبة بهذا الإسناد مثله.وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُد . َح وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ جَمِيعًا، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
‏‏‏‏ شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 4817
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا يحيي بن يحيي ، اخبرنا يزيد بن زريع ، عن خالد ، عن الحكم بن عبد الله بن الاعرج ، عن معقل بن يسار ، قال: لقد رايتني يوم الشجرة والنبي صلى الله عليه وسلم يبايع الناس، وانا رافع غصنا من اغصانها عن راسه ونحن اربع عشرة مائة، قال: " لم نبايعه على الموت، ولكن بايعناه على ان لا نفر ".وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ الشَّجَرَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ، وَأَنَا رَافِعٌ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا عَنْ رَأْسِهِ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، قَالَ: " لَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ، وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ ".
‏‏‏‏ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے اپنے آپ کو شجرہ کے دن دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیعت لے رہے تھے لوگوں سے اور میں ایک شاخ کو درخت کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے اٹھائے ہوئے تھا ہم چودہ سو آدمی تھے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرنے پر بیعت نہیں کی بلکہ بھاگنے پر۔
حدیث نمبر: 4818
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثناه يحيي بن يحيي ، اخبرنا خالد بن عبد الله ، عن يونس بهذا الإسناد.وحَدَّثَنَاه يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
‏‏‏‏ یونس سے بھی یہ حدیث مبارکہ اس سند سے روایت کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 4819
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثناه حامد بن عمر ، حدثنا ابو عوانة ، عن طارق ، عن سعيد بن المسيب ، قال: كان ابي ممن بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم عند الشجرة، قال: " فانطلقنا في قابل حاجين فخفي علينا مكانها، فإن كانت تبينت لكم فانتم اعلم ".وحَدَّثَنَاه حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ طَارِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ: كَانَ أَبِي مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الشَّجَرَةِ، قَالَ: " فَانْطَلَقْنَا فِي قَابِلٍ حَاجِّينَ فَخَفِيَ عَلَيْنَا مَكَانُهَا، فَإِنْ كَانَتْ تَبَيَّنَتْ لَكُمْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ ".
‏‏‏‏ سیدنا سعید بن مسیّب رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے باپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بیعت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شجرہ رضوان کے پاس۔ انہوں نے کہا: جب ہم دوسرے سال حج کو آئے تو اس درخت کی جگہ معلوم ہی نہیں ہوئی اگر تم کو معلوم ہو جائے تو تم زیادہ جانتے ہو۔
حدیث نمبر: 4820
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنيه محمد بن رافع ، حدثنا ابو احمد ، قال: وقراته على نصر بن علي ، عن ابي احمد ، حدثنا سفيان ، عن طارق بن عبد الرحمن ، عن سعيد بن المسيب ، عن ابيه : " انهم كانوا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الشجرة، قال: فنسوها من العام المقبل ".وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ: وَقَرَأْتُهُ عَلَى نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الشَّجَرَةِ، قَالَ: فَنَسُوهَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ ".
‏‏‏‏ سیدنا سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سے روایت کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے شجرۂ رضوان کی جس سال بیعت ہوئی پھر دوسرے سال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس درخت کو بھول گئے۔
حدیث نمبر: 4821
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثني حجاج بن الشاعر ، ومحمد بن رافع ، قالا: حدثنا شبابة ، حدثنا شعبة ، عن قتادة ، عن سعيد بن المسيب ، عن ابيه ، قال: " لقد رايت الشجرة ثم اتيتها بعد فلم اعرفها ".وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُ الشَّجَرَةَ ثُمَّ أَتَيْتُهَا بَعْدُ فَلَمْ أَعْرِفْهَا ".
‏‏‏‏ سیدنا سعید بن مسیّب رضی اللہ عنہ کے باپ نے کہا: میں نے شجرہ رضوان دیکھا تھا لیکن پھر جو میں اس کے پاس آیا تو پہچان نہ سکا۔
حدیث نمبر: 4822
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا حاتم يعني ابن إسماعيل ، عن يزيد بن ابي عبيد مولى سلمة بن الاكوع، قال: قلت لسلمة : " على اي شيء بايعتم رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الحديبية؟، قال: على الموت ".وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: قُلْتُ لِسَلَمَةَ : " عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ؟، قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ ".
‏‏‏‏ یزید بن ابی عبید نے کہا: میں نے سلمہ سے پوچھا: تم نے کس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی؟ انہوں نے کہا مر جانے پر کی۔
حدیث نمبر: 4823
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثناه إسحاق بن إبراهيم ، حدثنا حماد بن مسعدة ، حدثنا يزيد ، عن سلمة بمثله.وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ سَلَمَةَ بِمِثْلِهِ.
‏‏‏‏ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ حدیث کی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 4824
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثنا إسحاق بن إبراهيم ، اخبرنا المخزومي ، حدثنا وهيب ، حدثنا عمرو بن يحيي ، عن عباد بن تميم ، عن عبد الله بن زيد ، قال: " اتاه آت، فقال: ها ذاك ابن حنظلة يبايع الناس، فقال: على ماذا؟، قال: على الموت، قال: لا ابايع على هذا احدا بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم ".وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَي ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: " أَتَاهُ آتٍ، فَقَالَ: هَا ذَاكَ ابْنُ حَنْظَلَةَ يُبَايِعُ النَّاسَ، فَقَالَ: عَلَى مَاذَا؟، قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ، قَالَ: لَا أُبَايِعُ عَلَى هَذَا أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس کوئی آیا اور کہنے لگا، یہ حنظلہ کا بیٹا ہے جو لوگوں سے بیعت لے رہا ہے مرنے پر۔ انہوں نے کہا: میں ایسی بیعت کسی سے کرنے والا نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد۔

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.