الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن ابي داود کل احادیث 5274 :حدیث نمبر
سنن ابي داود
كِتَاب الصَّلَاةِ
کتاب: نماز کے احکام و مسائل
Prayer (Kitab Al-Salat)
5. باب فِي وَقْتِ صَلاَةِ الْعَصْرِ
باب: عصر کے وقت کا بیان۔
Chapter: The Time For ’Asr Prayer.
حدیث نمبر: 404
Save to word مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، انه اخبره،" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي العصر والشمس بيضاء مرتفعة حية، ويذهب الذاهب إلى العوالي والشمس مرتفعة".
(مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، وَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج سفید، بلند اور زندہ ہوتا تھا، اور جانے والا (عصر پڑھ کر) عوالی مدینہ تک جاتا اور سورج بلند رہتا تھا۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 34 (621)، سنن النسائی/المواقیت 7 (508)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 5 (682)، (تحفة الأشراف: 1522)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 13 (550)، والاعتصام 16 (7329)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1(11)، مسند احمد (3/223)، سنن الدارمی/الصلاة 15 (1244) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
یہ دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اول وقت میں عصر پڑھ لیا کرتے تھے جس کی تفصیل گذر چکی ہے کہ ایک مثل سایہ سے عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ سورج زندہ ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ اس کی گرمی و حرارت محسوس کریں۔ مدینہ کے جنوب مشرق کی جانب کی آبادیوں کو «عوالی» (بالائی علاقے) اور شمال کی جانب کے علاقے کو «سافلہ» (نشیبی علاقہ) کہتے تھے۔

Anas bin Malik said the Messenger of Allah ﷺ used to say the Asr prayer when the sun was high and bright and living, then one would go off to al-Awali and get there while the sun was still high.
USC-MSA web (English) Reference: Book 2 , Number 404


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 405
Save to word مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، قال: والعوالي على ميلين او ثلاثة، قال: واحسبه قال: او اربعة.
(مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: وَالْعَوَالِي عَلَى مِيلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: أَوْ أَرْبَعَةٍ.
زہری کا بیان ہے کہ عوالی مدینہ سے دو یا تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ راوی کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے چار میل بھی کہا۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19378) (صحیح)» ‏‏‏‏

Al-Zuhri said: Al-Awali is situated at a distance of two miles or three (from Madina). He (the narrator) said: I think he said: or four miles.
USC-MSA web (English) Reference: Book 2 , Number 405


قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
حدیث نمبر: 406
Save to word مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا جرير، عن منصور، عن خيثمة، قال: حياتها ان تجد حرها.
(مرفوع) حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَيَاتُهَا أَنْ تَجِدَ حَرَّهَا.
خیثمہ کہتے ہیں کہ سورج کے زندہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تم اس کی تپش اور گرمی محسوس کرو۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:18618) (صحیح)» ‏‏‏‏

Khaythamah said: By the life of the sun is meant that you may find heat in it.
USC-MSA web (English) Reference: Book 2 , Number 406


قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
حدیث نمبر: 407
Save to word مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا القعنبي، قال: قرات على مالك بن انس، عن ابن شهاب، قال عروة: ولقد حدثتني عائشة،" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي العصر والشمس في حجرتها قبل ان تظهر".
(مرفوع) حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ عُرْوَةُ: وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر ایسے وقت میں ادا فرماتے تھے کہ دھوپ میرے حجرے میں ہوتی، ابھی دیواروں پر چڑھی نہ ہوتی۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المواقیت 1 (522)، 13 (544)، والخمس 4 (3103)، صحیح مسلم/المساجد 31 (612)، (تحفة الأشراف: 16596)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 6 (109)، سنن النسائی/المواقیت 7 (506)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 5 (683)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1(2) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
حجرہ عربی زبان میں گھر کے ساتھ گھرے ہوئے آنگن کو بھی کہتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کے صحن کی دیواریں چھوٹی ہی تھیں اس لیے دھوپ ابھی آنگن ہی میں ہوتی تھی۔ مشرقی دیوار پر چڑھتی نہ تھی کہ عصر کا وقت ہو جاتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیتے تھے۔ معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اول وقت میں نماز عصر پڑھتے تھے۔

Aishah said: The Messenger of Allah ﷺ would offer the Asr prayer while the sunlight was present in her apartment before it ascended (the walls).
USC-MSA web (English) Reference: Book 2 , Number 407


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 408
Save to word مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن عبد الرحمن العنبري، حدثنا إبراهيم بن ابي الوزير، حدثنا محمد بن يزيد اليمامي، حدثني يزيد بن عبد الرحمن بن علي بن شيبان، عن ابيه، عن جده علي بن شيبان، قال:" قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة، فكان يؤخر العصر ما دامت الشمس بيضاء نقية".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ، قَالَ:" قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَصْرَ مَا دَامَتِ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ نَقِيَّةً".
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آئے تو دیکھا کہ آپ عصر کو مؤخر کرتے جب تک کہ سورج سفید اور صاف رہتا تھا۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف: 10019) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے دو راوی محمد بن یزید اور یزید مجہول ہیں)

Narrated Ali ibn Shayban: We came upon the Messenger of Allah ﷺ in Madina. He would postpone the afternoon prayer as long as the sun remained white and clear.
USC-MSA web (English) Reference: Book 2 , Number 408


قال الشيخ الألباني: ضعيف
حدیث نمبر: 409
Save to word اعراب English
(مرفوع) حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زائدة، ويزيد بن هارون، عن هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن عبيدة، عن علي رضي الله عنه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال يوم الخندق:" حبسونا عن صلاة الوسطى صلاة العصر، ملا الله بيوتهم وقبورهم نارا".
(مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ:" حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے روز فرمایا: ہم کو انہوں نے (یعنی کافروں نے) نماز وسطیٰ (یعنی عصر) سے روکے رکھا، اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو جہنم کی آگ سے بھر دے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجہاد 98 (2931)، والمغازي 29 (4111)، وتفسیر البقرة (4533)، والدعوات 58 (6396)، صحیح مسلم/المساجد 35 (626)، 36 (627)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة 42 (2984)، سنن النسائی/الصلاة 14 (474)، (تحفة الأشراف: 10232)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصلاة 6 (684)، مسند احمد (1/81، 82، 113، 122، 126، 135، 137، 144، 146، 150، 151، 152، 153، 154)، سنن الدارمی/الصلاة 28 (1286) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
یہ حدیث آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» نمازوں کی محافظت اور پابندی کرو اور درمیانی (یا افضل) نماز کی، اور اللہ کے لیے باادب ہو کر کھڑے ہوؤ۔ کی تفسیر کرتی ہے کہ اس میں صلوۃ وسطیٰ سے مراد عصر کی نماز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی رحیم و شفیق شخصیت کی زبان مبارک سے اس قسم کی شدید بددعا کا جاری ہونا واضح کرتا ہے کہ نماز کا بروقت ادا کرنا کتنا اہم ہے ہمیں بھی ہر نماز بروقت ادا کرنی چاہیے۔

Ali (may Allah be pleased with him) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying on the day of Battle of Khandaq (Trench). They (the unbelievers) prevented is from offering the middle prayer i. e. Asr prayer. May Allah fill their houses and their graves with Hell-fire.
USC-MSA web (English) Reference: Book 2 , Number 409


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 410
Save to word اعراب English
(مرفوع) حدثنا القعنبي، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي يونس مولى عائشة رضي الله عنها، انه قال:" امرتني عائشة ان اكتب لها مصحفا، وقالت: إذا بلغت هذه الآية فآذني حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى سورة البقرة آية 238، فلما بلغتها آذنتها، فاملت علي: 0 حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين 0، ثم قالت عائشة: سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم".
(مرفوع) حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهُ قَالَ:" أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا، وَقَالَتْ: إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238، فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا، فَأَمْلَتْ عَلَيَّ: 0 حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَصَلاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ 0، ثُمَّ قَالَتْ عَائِشَةُ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
قعقاع بن حکیم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابویونس سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھوں اور کہا کہ جب تم آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين» پر پہنچنا تو مجھے بتانا، چنانچہ جب میں اس آیت پر پہنچا تو انہیں اس کی خبر دی، تو انہوں نے مجھ سے اسے یوں لکھوایا: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين‏» ‏‏‏‏ ۱؎ ۲؎، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 36 (629)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (2982)، سنن النسائی/الصلاة 14 (473)، (تحفة الأشراف: 17809)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة 7 (25)، مسند احمد (6/73) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز وسطیٰ (درمیانی نماز) نماز عصر نہیں کوئی اور نماز ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے اس سے استدلال صحیح نہیں، یا یہ عطف عطف تفسیری ہے۔
۲؎: نمازوں کی حفاظت کرو خصوصی طور پر درمیان والی نماز کی اور عصر کی اور اللہ کے سامنے باادب کھڑے رہا کرو۔

Abu Yunus, the freed slave of Aishah said: Aishah commanded me to write for her come passage from the Quran. She also added: When you reach the following verse, inform me: "Be guardian of your prayers and of the midmost prayer" (2: 238). When I reached it, I informed her. She asked me to write: "Be guardians of your prayers, and of the midmost prayer, and of the Asr prayer, and stand up with devotion of Allah" (2: 238). Aishah then said: I heard it from the Messenger of Allah ﷺ.
USC-MSA web (English) Reference: Book 2 , Number 410


قال الشيخ الألباني: صحيح ثم
حدیث نمبر: 411
Save to word اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمد بن المثنى، حدثني محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، حدثني عمرو بن ابي حكيم، قال: سمعت الزبرقان يحدث، عن عروة بن الزبير، عن زيد بن ثابت، قال:" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي الظهر بالهاجرة، ولم يكن يصلي صلاة اشد على اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم منها، فنزلت: حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى سورة البقرة آية 238، وقال: إن قبلها صلاتين وبعدها صلاتين".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الزِّبْرِقَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي صَلَاةً أَشَدَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا، فَنَزَلَتْ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238، وَقَالَ: إِنَّ قَبْلَهَا صَلَاتَيْنِ وَبَعْدَهَا صَلَاتَيْنِ".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر دوپہر کو پڑھا کرتے تھے، اور کوئی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر اس سے زیادہ سخت نہ ہوتی تھی، تو یہ آیت نازل ہوئی: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى» ۱؎ زید نے کہا: بیشک اس سے پہلے دو نماز ہیں (ایک عشاء کی، دوسری فجر کی) اور اس کے بعد دو نماز ہیں (ایک عصر کی دوسری مغرب کی)۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 3731)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/183)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة 7 (27موقوفا) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: نماز وسطی سے مراد کون سی نماز ہے اس سلسلے میں مختلف حدیثیں وارد ہیں، زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ اس سے عصر مراد ہے، اکثر علماء کا رجحان اسی جانب ہے، واللہ اعلم بالصواب۔

Zaid bin Thabit said: The Messenger of Allah ﷺ used to offer the Zuhr prayer in midday heat; and no prayer was harder on the Companions of the Messenger of Allah ﷺ that this one. Hence the revelation came down: "Be guardians of your prayers, and of the midmost prayer" (2: 238). He (the narrator) said: There are two prayers before it and two prayers after it.
USC-MSA web (English) Reference: Book 2 , Number 411


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 412
Save to word مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا الحسن بن الربيع، حدثني ابن المبارك، عن معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، عن ابي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من ادرك من العصر ركعة قبل ان تغرب الشمس فقد ادرك، ومن ادرك من الفجر ركعة قبل ان تطلع الشمس فقد ادرك".
(مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ، وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْفَجْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز عصر پالی، اور جس شخص نے سورج نکلنے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز فجر پالی۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 30 (608)، سنن النسائی/المواقیت 10 (515)، 28 (551)، (تحفة الأشراف: 13576)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 28 (579)، سنن الترمذی/الصلاة 25 (186)، سنن النسائی/11 (516، 517)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 11 (1122)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1(5)، مسند احمد (2/254، 260، 282، 348، 399، 462، 474)، سنن الدارمی/الصلاة 22 (1258) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
مذکورہ بالاحدیث صاحب عذر کے لیے ہے مثلاً جب کوئی سوتا رہ گیا ہو یا بھول گیا ہو اور بالکل آخر وقت میں جاگا ہو آخر وقت میں نماز یاد آئی ہو تو اس کے لیے یہی وقت ہے۔ مگر جو بغیر کسی عذر کے تاخیر کرے تو اس کے لیے انتہائی مکروہ ہے۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone says a rak'ah of the Asr prayer before sunset, he has observed (the Asr prayer), and if anyone performs a rak'ah of the Fajr prayer before sunrise, he has observed (the Fajr prayer).
USC-MSA web (English) Reference: Book 2 , Number 412


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 413
Save to word مکررات اعراب English
(مرفوع) حدثنا القعنبي، عن مالك، عن العلاء بن عبد الرحمن، انه قال: دخلنا على انس بن مالك بعد الظهر فقام يصلي العصر، فلما فرغ من صلاته ذكرنا تعجيل الصلاة او ذكرها، فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول:" تلك صلاة المنافقين، تلك صلاة المنافقين، تلك صلاة المنافقين، يجلس احدهم حتى إذا اصفرت الشمس فكانت بين قرني شيطان، او على قرني الشيطان، قام فنقر اربعا لا يذكر الله فيها إلا قليلا".
(مرفوع) حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ذَكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلَاةِ أَوْ ذَكَرَهَا، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ، تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ، تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ، يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ فَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، أَوْ عَلَى قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا".
علاء بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ہم ظہر کے بعد انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ عصر پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے نماز کے جلدی ہونے کا ذکر کیا یا خود انہوں نے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: یہ منافقوں کی نماز ہے، یہ منافقوں کی نماز ہے، یہ منافقوں کی نماز ہے کہ آدمی بیٹھا رہے یہاں تک کہ جب سورج زرد ہو جائے اور وہ شیطان کی دونوں سینگوں کے بیچ ہو جائے یا اس کی دونوں سینگوں پر ہو جائے ۱؎ تو اٹھے اور چار ٹھونگیں لگا لے اور اس میں اللہ کا ذکر صرف تھوڑا سا کرے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 34 (622)، سنن الترمذی/الصلاة 6 (160)، سنن النسائی/المواقیت 8 (512)، (تحفة الأشراف: 1122)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 10(46)، مسند احمد (3/102، 103، 149، 185، 247) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
یہ حدیث گویا پہلی حدیث ۴۱۲ کی شرح ہے کہ اگر کسی سے عذر شرعی کی بناء پر تاخیر ہوئی ہو اور اس نے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے ایک رکعت پالی ہو تو اس نے گویا وقت میں نماز پالی اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر خاص رحمت ہے۔ اور اگر بغیر عذر کے تاخیر کرے تو یہ منافقت کی علامت ہے۔ سورج کا شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہونا کے مفہوم میں اختلاف ہے، علامہ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ یہ حقیقت ہے اور سورج کے طلوع و غروب کے وقت شیطان سورج کے سامنے آ جاتا ہے اور ایسے لگتا ہے گویا سورج اس کے سر کے درمیان سے نکل رہا ہے یا غروب ہو رہا ہے اور سورج کے پجاری بھی ان اوقات میں اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہی تو یہ سمجھتا ہے کہ اسے ہی سجدہ کیا جا رہا ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دو سینگوں سے مراد مجاز شیطان کا بلند ہونا اور شیطانی قوتوں کا غلبہ ہے اور کفار طلوع و غروب کے اوقات مین سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔ استثنائی صورتوں کو قاعدہ یا کلیہ نہیں بنانا چاہیے۔

Ala bin Abdur-Rahman said: We came upon Anas bin Malik after the Zuhr prayer. He stood for saying the Asr prayer. When he became free from praying, we mentioned to him about observing prayer in its early period or he himself mentioned it. He said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: This is how hypocrites pray, this is how hypocrites pray, this is how hypocrites pray: He sits (watching the sun), and when it becomes yellow and is between the horns of the devil, or is on the horns of the devil, he rises and prays for rak'ahs quickly, remembering Allah only seldom during them.
USC-MSA web (English) Reference: Book 2 , Number 413


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 414
Save to word اعراب English
(مرفوع) حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" الذي تفوته صلاة العصر، فكانما وتر اهله وماله"، قال ابو داود: وقال عبيد الله بن عمر: اتر، واختلف على ايوب فيه، وقال الزهري: عن سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: وتر.
(مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أُتِرَ، وَاخْتُلِفَ عَلَى أَيُّوبَ فِيهِ، وقَالَ الزُّهْرِيُّ: عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وُتِرَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی عصر چھوٹ گئی گویا اس کے اہل و عیال تباہ ہو گئے اور اس کے مال و اسباب لٹ گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبیداللہ بن عمر نے «وتر» (واؤ کے ساتھ) کے بجائے «أتر» (ہمزہ کے ساتھ) کہا ہے (دونوں کے معنی ہیں: لوٹ لیے گئے)۔ اس حدیث میں «وتر» اور «أتر» کا اختلاف ایوب کے تلامذہ میں ہوا ہے۔ اور زہری نے سالم سے، سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اور عبداللہ بن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے «وتر» فرمایا ہے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المواقیت 14 (552)، صحیح مسلم/المساجد 35 (626)، سنن النسائی/الصلاة 17 (479)، (تحفة الأشراف: 8345)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 16 (175)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 6 (685)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 5 (21)، مسند احمد (2/8، 13، 27، 48، 64، 75، 76، 102، 134، 145، 147)، سنن الدارمی/الصلاة 27 (1267) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
امام خطابی نے کہا ہے وُتِرَ کے معنی ہیں کم کر دیا گیا یا چھین لیا گیا، پس وہ شخص بغیر اہل اور مال کے تنہا رہ گیا، اس لیے ایک مسلمان کو نماز عصر کو فوت کرنے سے اسی طرح بچنا چاہیے جیسے وہ گھر والوں سے اور مال کے فوت ہونے سے ڈرتا ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو «باب ماجاء فی السھوعن وقت صلاۃ العصر» کے ذیل میں درج فرمایا ہے۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ انسان عصر کی نماز میں بھول کر بھی تاخیر کرے تو بے حدوشمار گھاٹے اور خسارے میں ہے، کجا یہ کہ عمداً تغافل کا شکار ہو۔

Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Anyone who loses his Asr prayer is like a person whose family has perished and whose property has been plundered. Abu Dawud said: Abdullah bin Umar narrated the word utira (instead of wutira, meaning perished). The dispute on this point goes back to Ayyub. Al-Zuhri reported from Salim on the authority of this father from the Prophet ﷺ the word 'wutira'.
USC-MSA web (English) Reference: Book 2 , Number 414


قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 415
Save to word اعراب English
(مرفوع) حدثنا محمود بن خالد، حدثنا الوليد، قال: قال ابو عمرو يعني الاوزاعي: وذلك ان ترى ما على الارض من الشمس صفراء.
(مرفوع) حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ: وَذَلِكَ أَنْ تَرَى مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الشَّمْسِ صَفْرَاءَ.
ابوعمرو یعنی اوزاعی کا بیان ہے کہ عصر فوت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر جو دھوپ ہے وہ تمہیں زرد نظر آنے لگے۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف: 18965) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ولید مدلس راوی ہیں، نیز یہ اوزاعی کا اپنا خیال ہے)

Al-Awzai said: Delaying the Asr prayer means that the sunshine becomes yellow on the earth.
USC-MSA web (English) Reference: Book 2 , Number 415


قال الشيخ الألباني: ضعيف مقطوع

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.