الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب الْحَجِّ
حج کے احکام و مسائل
The Book of Pilgrimage
31. باب جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ:
باب: حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کا جواز۔
Chapter: It is permissible to perform 'Umrah during the months of Hajj
حدیث نمبر: 3009
Save to word اعراب
وحدثني محمد بن حاتم ، حدثنا بهز ، حدثنا وهيب ، حدثنا عبد الله بن طاوس ، عن ابيه ، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: كانوا يرون ان العمرة في اشهر الحج من افجر الفجور في الارض، ويجعلون المحرم صفرا، ويقولون إذا برا الدبر وعفا الاثر وانسلخ صفر، حلت العمرة لمن اعتمر، فقدم النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه صبيحة رابعة مهلين بالحج، فامرهم ان يجعلوها عمرة، فتعاظم ذلك عندهم، فقالوا: يا رسول الله، اي الحل؟ قال: " الحل كله ".وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الْأَرْضِ، وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا، وَيَقُولُونَ إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ وَعَفَا الْأَثَرْ وَانْسَلَخَ صَفَرْ، حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ، فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْحِلِّ؟ قَالَ: " الْحِلُّ كُلُّهُ ".
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ لوگ جاہلیت میں (یعنی اسلام کے زمانہ سے پہلے) حج کے دونوں میں عمرہ لانے کو زمین کے اوپر بڑا گناہ جانتے تھے اور محرم کے مہینہ کو صفر کر دیا کرتے تھے (یعنی اس لیے کہ تین مہینے برابر ماہ حرام کے جو آتے ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم تو وہ گھبرا جاتے اور لوٹ پوٹ نہ کر سکتے اس لیے یہ شرارت نکالی کہ محرم کی جگہ صفر کو لکھ دیا اور خوب لوٹ پاٹ کی اور جب صفر کا مہینہ آیا تو محرم کی طرح اس کا ادب کیا اور یہی نسئی تھی جس کو قرآن میں اللہ تعالیٰ مشرکوں کی عادت فرماتا ہے) کہتے تھے: جب اونٹوں کی پیٹھیں اچھی ہو جائیں (یعنی جو سفر حج کے سبب سے لگ گئی ہیں اور زخمی ہو گئیں ہیں) اور راستوں سے حاجیوں کے اونٹوں کے نشان قدم مٹ جائیں اور صفر کا مہینہ تمام ہو جائے تب عمرہ جائز ہے عمرہ کرنے والے کو پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ چوتھی ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم فرمایا کہ اس حج کے احرام کو عمرہ بنا دیں (جیسے مذہب ابن قیم رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے کہ اوپر بدلائل گزر چکا) سو یہ لوگوں کو بڑی انوکھی بات لگی اور عرض کی: یا رسول اللہ! ہم کیسے حلال ہوں! (یعنی پورے یا ادھورے کہ بعض چیز سے بچتے رہیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورے حلال ہو۔ یعنی کسی چیز سے پرہیز کی ضرورت نہیں۔
حدیث نمبر: 3010
Save to word اعراب
حدثنا نصر بن علي الجهضمي ، حدثنا ابي ، حدثنا شعبة ، عن ايوب ، عن ابي العالية البراء ، انه سمع ابن عباس رضي الله عنهما، يقول: اهل رسول الله صلى الله عليه وسلم بالحج، فقدم لاربع مضين من ذي الحجة فصلى الصبح، وقال لما صلى الصبح: " من شاء ان يجعلها عمرة فليجعلها عمرة "،حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَقَدِمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَصَلَّى الصُّبْحَ، وَقَالَ لَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ: " مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً "،
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے فرزند فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لبیک پکاری حج کی، پھر جب چار تاریخیں گزریں ذی الحجہ کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی، پھر جب نماز صبح سے فارغ ہوئے فرمایا: جس کا جی چاہے اس احرم حج کو عمرہ کر ڈالے۔
حدیث نمبر: 3011
Save to word اعراب
وحدثناه إبراهيم بن دينار ، حدثنا روح . ح وحدثنا ابو داود المباركي ، حدثنا ابو شهاب . ح وحدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا يحيى بن كثير كلهم، عن شعبة في هذا الإسناد اما روح، ويحيى بن كثير، فقال نصر: " اهل رسول الله صلى الله عليه وسلم بالحج "، واما ابو شهاب ففي روايته: " خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم نهل بالحج "، وفي حديثهم جميعا فصلى الصبح بالبطحاء، خلا الجهضمي فإنه لم يقله.وحَدَّثَنَاه إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا رَوْحٌ، وَيَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، فَقَالَ نَصْرٌ: " أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ "، وَأَمَّا أَبُو شِهَابٍ فَفِي رِوَايَتِهِ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُهِلُّ بِالْحَجِّ "، وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا فَصَلَّى الصُّبْحَ بِالْبَطْحَاءِ، خَلَا الْجَهْضَمِيَّ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْهُ.
‏‏‏‏ چند الفاظ کے فرق کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی روایت کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 3012
Save to word اعراب
وحدثنا هارون بن عبد الله ، حدثنا محمد بن الفضل السدوسي ، حدثنا وهيب ، اخبرنا ايوب ، عن ابي العالية البراء ، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: " قدم النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه لاربع خلون من العشر، وهم يلبون بالحج، فامرهم ان يجعلوها عمرة ".وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّدُوسِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنَ الْعَشْرِ، وَهُمْ يُلَبُّونَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً ".
‏‏‏‏ عبداللہ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے فرزند سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب چوتھی تاریخ ذی الحجہ کی مکہ میں آئے لبیک پکارتے ہوئے حج کی سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم فرمایا: اس کو عمرہ کر ڈالو۔
حدیث نمبر: 3013
Save to word اعراب
وحدثنا عبد بن حميد ، اخبرنا عبد الرزاق ، اخبرنا معمر ، عن ايوب ، عن ابي العالية ، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: " صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصبح بذي طوى، وقدم لاربع مضين من ذي الحجة، وامر اصحابه ان يحولوا إحرامهم بعمرة، إلا من كان معه الهدي ".وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِذِي طَوًى، وَقَدِمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُحَوِّلُوا إِحْرَامَهُمْ بِعُمْرَةٍ، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ ".
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی ذی طویٰ میں (وہ ایک وادی ہے مکہ کے قریب) اور مکہ میں صبح آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تاریخ چوتھی گزر چکی ذی الحجہ کی اور اپنے یاروں کو حکم فرمایا کہ اپنے حج کے احرام کو عمرہ کر ڈالیں۔ مگر جن کے پاس قربانی ہو۔
حدیث نمبر: 3014
Save to word اعراب
وحدثنا محمد بن المثنى ، وابن بشار ، قالا: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة . ح وحدثنا عبيد الله بن معاذ واللفظ له، حدثنا ابي ، حدثنا شعبة ، عن الحكم ، عن مجاهد ، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " هذه عمرة استمتعنا بها، فمن لم يكن عنده الهدي، فليحل الحل كله، فإن العمرة قد دخلت في الحج إلى يوم القيامة ".وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ الْهَدْيُ، فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ، فَإِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عمرہ جس سے ہم نے نفع لیا سو جس کے پاس قربانی نہ ہو وہ اسی طرح حج کا احرام عمرہ کر کے کھول ڈالے اس لیے کہ عمرہ حج کے دنوں میں روا ہو گیا قیامت تک۔
حدیث نمبر: 3015
Save to word اعراب
حدثنا محمد بن المثنى ، وابن بشار ، قالا: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، قال: سمعت ابا جمرة الضبعي ، قال: تمتعت فنهاني ناس عن ذلك، فاتيت ابن عباس فسالته عن ذلك، فامرني بها، قال: ثم انطلقت إلى البيت فنمت، فاتاني آت في منامي، فقال: " عمرة متقبلة وحج مبرور "، قال: فاتيت ابن عباس فاخبرته بالذي رايت، فقال: " الله اكبر الله اكبر سنة ابي القاسم صلى الله عليه وسلم ".حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ الضُّبَعِيَّ ، قَالَ: تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ عَنْ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَنِي بِهَا، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْبَيْتِ فَنِمْتُ، فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي، فَقَالَ: " عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ "، قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي رَأَيْتُ، فَقَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
‏‏‏‏ شعبہ نے ابوجمرہ ضبعی سے سنا ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے تمتع کیا اور لوگوں نے مجھے منع کیا۔ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے پوچھا، سو انہوں نے مجھے حکم دیا اور پھر میں بیت اللہ کے پاس جا کر سو رہا اور خواب میں دیکھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ عمرہ بھی مقبول ہے اور حج بھی مقبول ہے۔ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خواب بیان کیا کہا: سب بزرگی اللہ کو ہے، سب بزرگی اللہ کو ہے، یہ سنت ہے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ (یعنی پھر کیوں نہ قبول ہو)۔

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.