المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
18. مَنْ كَفَرَ بِالرَّجْمِ فَقَدْ كَفَرَ بِالْقُرْآنِ
جس نے (زنا کی سزا) رجم کا انکار کیا اس نے گویا قرآن کا انکار کیا
حدیث نمبر: 8271
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عبد الله بن خَيْران، حدثنا شُعبة، عن قَتَادة، عن يونس بن جُبير، عن كثير بن الصَّلت، عن زيد بن ثابت قال: سمعت رسولَ الله ﷺ يقول:"الشيخُ والشيخةُ فارجُمُوهما البَتَّةَ" (1) .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت (جب زنا کریں تو) ان دونوں کو لازمی رجم کر دو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8271]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،كسابقه» [ترقيم الرساله 8271] [ترقيم الشركة 8172]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
19. حَدُّ السَّاحِرِ ضَرْبَةٌ بِالسَّيْفِ
جادوگر کی حد تلوار سے اس کی گردن مارنا ہے
حدیث نمبر: 8272
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن قُتَيبة والحسن بن عبد الصمد، قالا: حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، حدثنا إسماعيل بن مسلم، عن الحسن، عن جُندُبِ الخيرِ قال: قال رسول الله ﷺ:"حَدُّ الساحرِ ضربةٌ بالسَّيف" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وإن كان الشيخان تَرَكا حديثَ إسماعيل بن مسلم، فإنه غريبٌ صحيح. وله شاهدٌ صحيح على شرطهما جميعًا في ضدِّ هذا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8073 - صحيح غريب
هذا حديث صحيح الإسناد، وإن كان الشيخان تَرَكا حديثَ إسماعيل بن مسلم، فإنه غريبٌ صحيح. وله شاهدٌ صحيح على شرطهما جميعًا في ضدِّ هذا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8073 - صحيح غريب
سیدنا جندب الخیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جادوگر کی حد تلوار سے ایک ضرب لگانا (قتل کرنا) ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ شیخین نے اسماعیل بن مسلم کی حدیث کو ترک کر دیا ہے، لیکن یہ ایک نادر اور صحیح روایت ہے۔ اور اس کے برعکس (یعنی جادو کے اثر کے متعلق) شیخین کی شرط پر ایک صحیح شاہد روایت موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8272]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ شیخین نے اسماعیل بن مسلم کی حدیث کو ترک کر دیا ہے، لیکن یہ ایک نادر اور صحیح روایت ہے۔ اور اس کے برعکس (یعنی جادو کے اثر کے متعلق) شیخین کی شرط پر ایک صحیح شاہد روایت موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8272]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، إسماعيل بن مسلم» [ترقيم الرساله 8272] [ترقيم الشركة 8173] [ترقيم العلميه 8073]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
20. حِكَايَةُ رَجُلٍ سَحَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ایک شخص کا قصہ جس نے نبی کریم ﷺ پر جادو کیا تھا
حدیث نمبر: 8273
حدثنا الأستاذ أبو الوليد، حدثنا أبو عبد الله البُوشَنْجي، حدثنا أحمد بن حنبل، حدثنا جَرير عن الأعمش، عن ثُمَامة بن عُقبة المُحلِّمي، عن زيد بن أرقم، قال: كان رجلٌ يدخلُ على النبيِّ ﷺ، فأخذَه رجلٌ (1) فَعَقَدَ له، فَوَضَعَه وطَرَحَه في بِئر رجلٍ من الأنصار، فأتاه مَلَكانِ يَعُودانِه (2) ، فقعد أحدُهما عند رأسِه، وقعد الآخرُ عند رجليه، فقال أحدهما: أتدري ما وَجَعُه؟ قال: فلانٌ الذي كان يدخلُ عليه عَقَدَ له عُقَدًا، فألقاه في بئر فلانٍ الأنصاري، فلو أَرسل إليه رجلًا فأخذ منه العُقَدَ، فوجد الماءَ قد اصفرَّ، قال: وأخذَ العُقَدَ فحلَّها فيها، قال: فكان الرجلُ بعدُ يَدخُلُ على النبي ﷺ، فلم يذكر له شيئًا منه، ولم يُعاتِبْه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جایا کرتا تھا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا اور (دھاگے میں) گرہیں لگا دیں، پھر اس نے اسے ایک انصاری شخص کے کنویں میں ڈال دیا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے آئے، ان میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا قدموں کی طرف، ایک نے پوچھا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا تکلیف ہے؟ دوسرے نے کہا: فلاں شخص جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر گرہیں لگا کر جادو کیا ہے اور اسے فلاں انصاری کے کنویں میں پھینک دیا ہے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو بھیجیں تو وہ وہاں سے ان گرہوں کو نکال لائے۔ (چنانچہ ایسا ہی کیا گیا) تو دیکھا کہ وہاں کا پانی زرد ہو چکا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ گرہیں لیں اور انہیں کھول دیا (جس سے جادو کا اثر ختم ہو گیا)۔ وہ شخص اس کے بعد بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اس سے اس کا ذکر کیا اور نہ ہی اسے ملامت کی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8273]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8273]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات لكن الأعمش مدلس، وقد عنعن، وإنما تحمل روايته على الاتصال لشيوخه المكثِر عنهم كما قال الذهبي في ترجمته من "الميزان" 2/ 224، ولم يروِ عن ثمامة بن عقبة سوى حديثين فيما قاله البزار في "مسنده" 10/ 215، وقد اختلف على الأعمش في إسناده أيضًا كما سيأتي» [ترقيم الرساله 8273] [ترقيم الشركة 8174]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات لكن الأعمش مدلس
حدیث نمبر: 8274
أخبرَناه أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزير التاجر، أخبرنا أبو حاتم محمد بن إدريس الحنظلي بالرَّي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا أشعَثُ بن عبد الملك، عن الحسن: أنَّ أميرًا من أمراء الكوفة دعا ساحرًا يَلعَبُ بين يدي الناس، فبلغ جُندُبًا، فأقبل بسيفه واشتَمَلَ عليه، فلما رآه ضربَه بسيفه، فتفرَّق الناسُ عنه فقال: أيها الناسُ، لن تُراعَوا، إنما أردتُ الساحرَ، فأخذه الأميرُ فحبَسَه، فبلغ ذلك سلمانَ، فقال: بئسَ ما صَنَعا، لم يكن ينبغي لهذا وهو إمامٌ يُؤتَمُّ به يدعو ساحرًا يلعب بين يديه، ولا ينبغي لهذا أن يُعاتِبَ أميرَه بالسَّيف (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8075 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8075 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حسن بصری سے روایت ہے کہ کوفہ کے امراء میں سے ایک امیر نے ایک جادوگر کو بلایا جو لوگوں کے سامنے کرتب دکھا رہا تھا، جب سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی تو وہ اپنی تلوار لے کر آئے جسے انہوں نے کپڑوں میں چھپا رکھا تھا، جب انہوں نے اسے دیکھا تو تلوار کے ایک وار سے اسے قتل کر دیا، لوگ وہاں سے تتر بتر ہو گئے تو انہوں نے فرمایا: ”اے لوگو! گھبراؤ نہیں، میں نے صرف جادوگر کو نشانہ بنانا تھا“، امیر نے انہیں پکڑ کر قید کر دیا، جب یہ بات سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”ان دونوں نے ہی برا کیا، اس امیر کو زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ ایک پیشوا (امام) ہو کر جادوگر کو کرتب دکھانے کے لیے بلائے، اور اس (جندب) کے لیے بھی یہ مناسب نہیں تھا کہ وہ اپنے امیر کی اصلاح یا سرزنش تلوار کے ذریعے کرتا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8274]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن اختلف العلماء في نسب جندب هذا قاتل الساحر وفي صحبته، وقد ذكر أقوال أهل العلم فيه المزيُّ في ترجمته من "التهذيب"» [ترقيم الرساله 8274] [ترقيم الشركة 8175] [ترقيم العلميه 8075]
الحكم على الحديث: خبر صحيح
21. أَحَادِيثُ رَجْمِ مَاعِزٍ الْأَسْلَمِيِّ
سیدنا ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ کے رجم سے متعلق احادیث
حدیث نمبر: 8275
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، حدثنا وهب بن جَرِير، حدثنا أبي قال: سمعت يعلى بن حَكيم يُحدِّث عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ قال لماعِزِ بن مالك:"وَيْحَكَ، لعَلَّكَ قبلت أو لَمَستَ أو غَمَزْتَ أو نَظَرتَ!" قال: لا، قال:"أفعَلْتَها؟ قال: نعم، فعند ذلك أمرَ برَجْمِه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وقد رواه الحكم بن أبان عن عكرمة بزياداتِ ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8076 - ذا في البخاري
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وقد رواه الحكم بن أبان عن عكرمة بزياداتِ ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8076 - ذا في البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک سے فرمایا: ”تمہاری خرابی ہو! شاید تم نے محض بوسہ لیا ہو گا، یا چھوا ہو گا، یا آنکھ ماری ہو گی، یا صرف دیکھا ہو گا؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے واقعی وہ (فعل) کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رجم (سنگسار) کرنے کا حکم دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8275]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8275]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8275] [ترقيم الشركة 8176] [ترقيم العلميه 8076]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8276
كما حدَّثَناه بكر بن محمد بن حَمْدان المروّزي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا حفص بن عمر العَدَني، حدثنا الحَكَم بن أبان، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ ماعزًا جاء إلى رجل من المسلمين، فقال: إني أصبتُ فاحشةً، فما تأمرُني؟ فقال له الرجلُ: اذهَبْ إلى رسولِ الله ﷺ ليستغفِرَ لك. فلما أتى ماعزٌ رسول الله ﷺ فأخبره كَرِهَ رسول الله ﷺ كلامَه - أو قال: قولَه - ثم قال رسولُ الله ﷺ لمن كان معه:"أَبصاحبِكم مَسٌّ؟" قال ابن عباس: فنظرتُ إلى القوم لأُشيرَ عليهم، فلم يَلتفِتْ إليَّ منهم أحدٌ، فقال له رسول الله ﷺ:"لعلَّكَ قبَّلتَها؟" قال: لا، قال النبي ﷺ: فمَسِسْتها؟ قال: لا، قال:"ففَعَلتَ بها؟" ولم يَكْنِ (1) ، قال: 4/ 362 نعم، قال:"فارجُمُوه"، قال: فبَيْنا هو يُرجَمُ إِذ رَمَاه الرجلُ الذي جاءَه ماعزٌ يستشيرُه، رَمَاه بِعَظْمٍ فخَرَّ ماعزٌ، فالتفَتَ إليه، فقال له ماعزٌ: قاتَلَكَ اللهُ أَوْرَيتَني (2) ثم أنتَ الآنَ تَرجُمُني (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8077 - حفص بن عمران العدني ضعفوه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8077 - حفص بن عمران العدني ضعفوه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ماعز ایک مسلمان شخص کے پاس آئے اور کہا: مجھ سے بے حیائی کا کام سرزد ہو گیا ہے، آپ میرے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہیں؟ اس شخص نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جاؤ تاکہ وہ تمہارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں، جب ماعز نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات کو ناپسند کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس موجود لوگوں سے پوچھا: ”کیا تمہارے اس ساتھی کو کوئی ذہنی خلل (جنون) ہے؟“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں لوگوں کی طرف دیکھ رہا تھا کہ انہیں اشارہ کروں (کہ خاموش رہیں) مگر ان میں سے کسی نے میری طرف توجہ نہ دی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز سے فرمایا: ”شاید تم نے اس کا صرف بوسہ لیا ہو گا؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے اسے چھوا تھا؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے اس کے ساتھ وہ (فعل) کیا ہے؟“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کنایہ استعمال نہیں فرمایا (بلکہ صراحت سے پوچھا)، انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں رجم کر دو“، راوی کہتے ہیں کہ جب انہیں رجم کیا جا رہا تھا تو اسی شخص نے انہیں ایک ہڈی ماری جس کے پاس ماعز مشورہ لینے گئے تھے، ماعز گر پڑے اور اس کی طرف متوجہ ہو کر کہا: ”اللہ تجھے غارت کرے، تو نے ہی مجھے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے) ظاہر کیا اور اب تو ہی مجھے رجم کر رہا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8276]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا بهذا السياق، حفص بن عمر العدني متفق على ضعفه، وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص"» [ترقيم الرساله 8276] [ترقيم الشركة 8177] [ترقيم العلميه 8077]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا بهذا السياق
22. حَفَرُوا لِمَاعِزٍ إِلَى صَدْرِهِ عِنْدَ الرَّجْمِ
سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کے لیے رجم کے وقت سینے تک گڑھا کھودا گیا
حدیث نمبر: 8277
حدثنا أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، قالا: حدثنا معاذ بن نَجْدة القرشي، حدثنا خلَّاد بن يحيى، حدثنا بَشير بن المُهاجر، عن عبد الله (1) بن بُرَيدة، عن أبيه، قال: كنتُ جالسًا عند رسولِ الله ﷺ فجاء الأسلميُّ ماعزُ بنُ مالك، فقال: يا رسولَ الله، إنِّي زَنَيتُ، وإني أُريد أن تُطهِّرَني، فقال له النبيُّ ﷺ:"ارجع"، فرجعَ حتى أتاه الثالثةَ، فأتى رسولَ الله ﷺ قومُه فسألَهم عنه، فأحسَنُوا عليه الثَّناءَ، فقال:"كيف عَقلُه، هل به"جُنونٌ؟" قالوا: لا والله، وأحسَنُوا عليه الثناءَ في عقلِه ودينهِ، وأتاه الرابعةَ فسألهم عنه، فقالوا له مثلَ ذلك، فأمَرَهم فَحَفَرُوا له حفرةً إلى صَدرِه ثم رَجَموه (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، فقد احتجَّ ببَشير بن مُهاجر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8078 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، فقد احتجَّ ببَشير بن مُهاجر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8078 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ اسلمی قبیلے کے ماعز بن مالک آئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے (سزا دے کر) پاک کر دیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس چلے جاؤ“، وہ تین بار واپس جا کر پھر آئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قوم کے پاس آدمی بھیجا اور ان کے بارے میں پوچھا، انہوں نے ان کی تعریف کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس کی عقل کیسی ہے، کیا اسے جنون تو نہیں؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں، اور ان کی عقل و دین کی تعریف کی، چوتھی مرتبہ جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ قوم سے پوچھا، انہوں نے پھر وہی جواب دیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ان کے لیے سینے تک گڑھا کھودا گیا اور پھر انہیں رجم کر دیا گیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے بشیر بن مہاجر سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8277]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے بشیر بن مہاجر سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8277]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قصة الحفر لماعز، فقد تفرَّد بها بشير بن المهاجر، وهو ليّن الحديث، وقد وهم في ذكر الحفر، ونفاه غيره كما في حديث أبي سعيد الخدري التالي، وهو أصحُّ» [ترقيم الرساله 8277] [ترقيم الشركة 8178] [ترقيم العلميه 8078]
الحكم على الحديث: حديث صحيح دون قصة الحفر لماعز
حدیث نمبر: 8278
أخبرنا محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْلي، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا داود بن أبي هند، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ ماعز بن مالك أتى النبيَّ ﷺ فقال: إني أصبتُ فاحشةً، فردَّده النبيُّ ﷺ مرارًا، فسأل قومَه:"أبِهِ بأسٌ؟" فقالوا: ما به بأسٌ إلَّا أنه أتى أمرًا لا يَرَى أن يُخرِجَه منه إلَّا أن يُقامَ الحدُّ عليه، قال: فأمَرَنا فانطلقنا به إلى بَقِيع الغَرقَد، قال: فلم نَحفِرْ له ولم نُوثِقه، فرَمَيناه بخَزَفٍ وعِظام وجَنْدَل، فاستكَنَّ، فسعى فاشتَدَدْنا خلفَه، فأتى الحَرَّة فانتَصَب لنا، فرَمَيناه بجَلاميدِها حتى سَكَتَ، فقام النبي ﷺ من العَشِيّ خطيبًا، فحمد الله وأثنى عليه، فقال:"أمّا بعدُ، فما بالُ أقوام إذا غَزَونا فتَخلَّفَ أحدُهم في عِيالِنا له نَبيبٌ كنَبيبِ التَّيس، أمَا إني عَليَّ لا أُوتَى بأَحدٍ (1) فعلَ ذلك إلَّا نَكَّلتُ به"، قال: ثم نزل، فلم يَسُبَّه ولم يَستغفِرْ له (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8079 - على شرط النسائي ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8079 - على شرط النسائي ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: میں نے بے حیائی کا کام کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار انہیں ٹالا اور ان کی قوم سے پوچھا: ”کیا اس میں کوئی خرابی (دماغی خلل) ہے؟“ انہوں نے کہا: اس میں کوئی خرابی نہیں سوائے اس کے کہ اس سے ایسا کام ہو گیا ہے جس سے وہ نجات کا راستہ صرف حد لگوانے ہی میں دیکھتا ہے، ابوسعید کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تو ہم انہیں بقیع الغرقد کی طرف لے گئے، ہم نے نہ تو ان کے لیے گڑھا کھودا اور نہ ہی انہیں باندھا، ہم نے انہیں ٹھیکریوں، ہڈیوں اور پتھروں سے مارنا شروع کیا، جب انہیں چوٹیں لگیں تو وہ بھاگے، ہم بھی ان کے پیچھے دوڑے یہاں تک کہ وہ حرہ کے مقام پر ہمارے سامنے آ کھڑے ہوئے، پھر ہم نے انہیں بڑے پتھروں سے مارا یہاں تک کہ وہ خاموش (فوت) ہو گئے، پھر شام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”اما بعد! ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ جب ہم جہاد پر جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی پیچھے رہ کر ہمارے اہل و عیال میں بکرے کی طرح آوازیں نکالتا ہے (بدفعلی کی کوشش کرتا ہے)، آگاہ رہو! میرے پاس جو بھی ایسا شخص لایا گیا میں اسے عبرتناک سزا دوں گا“، راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کو نہ برا بھلا کہا اور نہ ہی ان کے لیے استغفار کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8278]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8278]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو نضرة: هو المنذر بن مالك بن قِطعة العبدي» [ترقيم الرساله 8278] [ترقيم الشركة 8179] [ترقيم العلميه 8079]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8279
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا أبو داود الطَّيَالسي، حدثنا شُعْبة، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن المُنكدِر، عن ابن لهَزَّال، عن أبيه، أنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"يا هزَّالُ، لو سَتَرته بثوبك كان خيرًا لك". قال شُعبة: قال يحيى: فذكرتُ هذا الحديث بمجلس فيه يزيد بن نُعيم بن هَزّال، فقال يزيد: هذا الحديث (3) حقٌّ، وهو حديث جدِّي (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تفرّد بهذه الزيادة أبو داود عن شُعبة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8080 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تفرّد بهذه الزيادة أبو داود عن شُعبة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8080 - صحيح
ہزال کے بیٹے سے روایت ہے کہ ان کے والد نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ہزال! اگر تم اسے اپنے کپڑے سے ڈھانپ لیتے (یعنی اس کا پردہ رکھتے) تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوتا۔“ یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے جب یہ حدیث ایک مجلس میں بیان کی جہاں ہزال کے پوتے یزید بن نعیم موجود تھے تو انہوں نے کہا: یہ حدیث برحق ہے اور یہ میرے دادا ہی کی روایت ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8279]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8279]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد رجاله ثقات، وابن هزال» [ترقيم الرساله 8279] [ترقيم الشركة 8180] [ترقيم العلميه 8080]
الحكم على الحديث: حديث حسن
حدیث نمبر: 8280
أخبرنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله بن سليمان الحَضرميُّ، حدثنا علي بن سعيد بن مسروق الكِنْدي، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قيل للنبيِّ ﷺ: إنَّ ماعزًا حينَ وَجَدَ مسَّ الحجارةِ والموتِ فَرَّ، فقال:"أفهَلَّا تركتُموه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8081 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8081 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ ماعز جب پتھروں کی چوٹ اور موت کی سختی محسوس کرنے لگے تو بھاگ کھڑے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا؟“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8280]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8280]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة الليثي» [ترقيم الرساله 8280] [ترقيم الشركة 8181] [ترقيم العلميه 8081]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره