الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب الْحَجِّ
حج کے احکام و مسائل
The Book of Pilgrimage
85. باب فَضْلِ الْمَدِينَةِ وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا:
باب: مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حرمت اور اس کے شکار، اور درخت کاٹنے کی حرمت، اور اس کے حدود حرم کا بیان۔
Chapter: The virtue of Al-Madinah and the Prophet's Prayer for it to be blessed. Its sanctity and the sanctity of its game and trees. The Boundaries of its sanctuary
حدیث نمبر: 3313
Save to word اعراب
حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا عبد العزيز يعني ابن محمد الدراوردي ، عن عمرو بن يحيى المازني ، عن عباد بن تميم ، عن عمه عبد الله بن زيد بن عاصم : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " إن إبراهيم حرم مكة، ودعا لاهلها، وإني حرمت المدينة، كما حرم إبراهيم مكة، وإني دعوت في صاعها، ومدها بمثلي ما دعا به إبراهيم لاهل مكة "،حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَدَعَا لِأَهْلِهَا، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ، كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، وَإِنِّي دَعَوْتُ فِي صَاعِهَا، وَمُدِّهَا بِمِثْلَيْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَكَّةَ "،
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کا حرم مقرر کیا (یعنی حرمت اس کی ظاہر کی ورنہ حرمت اس کی آسمان و زمین کے بننے کے دن تھی) اور اس کے لوگوں کے لئے دعا کی اور میں نے مدینہ کو حرام کیا جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام کیا اور میں نے دعا کی مدینہ کے صاع اور مد کے لئے اس سے دو حصے برابر جیسے ابراہیم علیہ السلام نے کی تھی اہل مکہ کے لئے۔
حدیث نمبر: 3314
Save to word اعراب
وحدثنيه ابو كامل الجحدري ، حدثنا عبد العزيز يعني ابن المختار . ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا خالد بن مخلد ، حدثني سليمان بن بلال . ح وحدثناه إسحاق بن إبراهيم ، اخبرنا المخزومي ، حدثنا وهيب ، كلهم عن عمرو بن يحيى هو المازني ، بهذا الإسناد، اما حديث وهيب، فكرواية الدراوردي: بمثلي ما دعا به إبراهيم، واما سليمان بن بلال، وعبد العزيز بن المختار، ففي روايتهما: مثل ما دعا به إبراهيم.وحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ . ح وحدثناه إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حدثنا وُهَيْبٌ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى هُوَ الْمَازِنِيُّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا حَدِيثُ وُهَيْبٍ، فَكَرِوَايَةِ الدَّرَاوَرْدِيِّ: بِمِثْلَيْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ، وَأَمَّا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، فَفِي رِوَايَتِهِمَا: مِثْلَ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ.
‏‏‏‏ عمرو سے اسی اسناد سے یہی مضمون مروی ہوا اور لیکن وہیب کی روایت میں تو «الدَّرَاوَرْدِىِّ» کی مثل یہی ہے کہ میں نے دعا کی ابراہیم علیہ السلام کے دو حصہ برابر۔ اور سلیمان بن بلال اور عبدالعزیز کی روایت میں یہ ہے کہ دعا کی میں نے ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے برابر۔
حدیث نمبر: 3315
Save to word اعراب
وحدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا بكر يعني ابن مضر ، عن ابن الهاد ، عن ابي بكر بن محمد ، عن عبد الله بن عمرو بن عثمان ، عن رافع بن خديج ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن إبراهيم حرم مكة، وإني احرم ما بين لابتيها "، يريد المدينة.وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا "، يُرِيدُ الْمَدِينَةَ.
‏‏‏‏ رافع نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں دونوں کالے پتھروں والے میدانوں کے بیچ میں حرام قرار دیتا ہوں۔ مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ ہے۔
حدیث نمبر: 3316
Save to word اعراب
وحدثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب ، حدثنا سليمان بن بلال ، عن عتبة بن مسلم ، عن نافع بن جبير : ان مروان بن الحكم خطب الناس، فذكر مكة، واهلها وحرمتها، ولم يذكر المدينة، واهلها وحرمتها، فناداه رافع بن خديج ، فقال: " ما لي اسمعك ذكرت مكة، واهلها وحرمتها، ولم تذكر المدينة، واهلها وحرمتها، وقد حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما بين لابتيها "، وذلك عندنا في اديم خولاني إن شئت اقراتكه، قال: فسكت مروان، ثم قال: قد سمعت بعض ذلك.وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعَنْبٍ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ : أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ خَطَبَ النَّاسَ، فَذَكَرَ مَكَّةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَدِينَةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، فَنَادَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، فقَالَ: " مَا لِي أَسْمَعُكَ ذَكَرْتَ مَكَّةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَلَمْ تَذْكُرِ الْمَدِينَةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَقَدْ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا "، وَذَلِكَ عَنْدَنَا فِي أَدِيمٍ خَوْلَانِيٍّ إِنْ شِئْتَ أَقْرَأْتُكَهُ، قَالَ: فَسَكَتَ مَرْوَانُ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ بَعْضَ ذَلِكَ.
‏‏‏‏ نافع نے کہا کہ مروان نے خطبہ پڑھا اور ذکر کیا مکہ کا اور اس کے رہنے والوں کا سو پکارا اس کو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ صحابی نے اور کہا کہ یہ کیا سنتا ہوں میں تجھ سے کہ تو نے ذکر کیا مکہ کا اور اس کے لوگوں کا اور اس کے حرم ہونے کا اور نہ ذکر کیا مدینہ کا اور نہ وہاں کے لوگوں کا اور نہ اس کے حرم ہونے کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم ٹھہرایا ہے۔ دونوں کالے پتھر والے میدانوں کے بیچ میں اور یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرم ٹھہرانے کی ہمارے پاس ایک خولانی چمڑے پر لکھی ہوئی ہے اگر تم چاہو تو میں تم کو پڑھا دوں۔ راوی نے کہا کہ مروان خاموش ہو رہا اور کہا کہ میں نے بھی اس میں سے کچھ سنا ہے۔
حدیث نمبر: 3317
Save to word اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وعمرو الناقد ، كلاهما عن ابي احمد ، قال ابو بكر: حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي، حدثنا سفيان ، عن ابي الزبير ، عن جابر ، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: " إن إبراهيم حرم مكة، وإني حرمت المدينة ما بين لابتيها، لا يقطع عضاهها، ولا يصاد صيدها ".حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أَحْمَدَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسْدِيُّ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، لَا يُقْطَعُ عِضَاهُهَا، وَلَا يُصَادُ صَيْدُهَا ".
‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ابراہیم علیہ السلام نے حرم مقرر کیا مکہ کا اور میں حرم مقرر کرتا ہوں مدینہ کا دونوں کالے پتھر والے میدانوں کے بیچ میں (یعنی جو مدینہ کے دونوں طرف واقع ہیں) کوئی کانٹے دار درخت نہ کاٹا جائے اور نہ کوئی جانور شکار کیا جائے۔
حدیث نمبر: 3318
Save to word اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عبد الله بن نمير . ح وحدثنا ابن نمير ، حدثنا ابي ، حدثنا عثمان بن حكيم ، حدثني عامر بن سعد ، عن ابيه ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إني احرم ما بين لابتي المدينة ان يقطع عضاهها، او يقتل صيدها "، وقال: " المدينة خير لهم لو كانوا يعلمون، لا يدعها احد رغبة عنها، إلا ابدل الله فيها من هو خير منه، ولا يثبت احد على لاوائها وجهدها، إلا كنت له شفيعا، او شهيدا يوم القيامة "،حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا، أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا "، وَقَالَ: " الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا، إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "،
‏‏‏‏ عامر بن سعد نے اپنے باپ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے حرم مقرر کر دیا درمیان دونوں میدانوں کالے پتھر والوں کے کہ نہ کاٹا جائے کانٹے دار درخت وہاں کا۔ اور فرمایا: کہ مدینہ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے کاش وہ اس کو سمجھتے (یہ خطاب ہے ان لوگوں کو جو مدینہ چھوڑ کر اور جگہ چلے جاتے ہیں یا تمام مسلمانوں کو) اور نہیں چھوڑتا کوئی مدینہ کو مگر اللہ تعالیٰ اس سے بہتر کوئی آدمی اس میں بھیج دیتا ہے اور نہیں صبر کرتا ہے کوئی اس کی بھوک، پیاس پر اور محنت و مشقت پر مگر میں اس کا شفیع یا گواہ ہوتا ہوں قیامت کے دن۔
حدیث نمبر: 3319
Save to word اعراب
وحدثنا ابن ابي عمر ، حدثنا مروان بن معاوية ، حدثنا عثمان بن حكيم الانصاري ، اخبرني عامر بن سعد بن ابي وقاص ، عن ابيه : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال، ثم ذكر مثل حديث ابن نمير، وزاد في الحديث: ولا يريد احد اهل المدينة بسوء، إلا اذابه الله في النار ذوب الرصاص، او ذوب الملح في الماء.وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: وَلَا يُرِيدُ أَحَدٌ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ، إِلَّا أَذَابَهُ اللَّهُ فِي النَّارِ ذَوْبَ الرَّصَاصِ، أَوْ ذَوْبَ الْمِلْحِ فِي الْمَاءِ.
‏‏‏‏ سیدنا عامر بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے وہی روایت بیان کی مثل حدیث ابن نمیر کی اور اس میں زیادہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ نہیں ارادہ کرتا ہے کوئی اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا۔ مگر اللہ تعالیٰ اس کو گھلا دیتا ہے ایسا جیسے سیسہ گھل جاتا ہے آگ میں یا نمک گھل جاتا ہے پانی میں۔
حدیث نمبر: 3320
Save to word اعراب
وحدثنا إسحاق بن إبراهيم ، وعبد بن حميد ، جميعا عن العقدي ، قال عبد: اخبرنا عبد الملك بن عمرو، حدثنا عبد الله بن جعفر ، عن إسماعيل بن محمد ، عن عامر بن سعد : ان سعدا ركب إلى قصره بالعقيق، فوجد عبدا يقطع شجرا او يخبطه فسلبه، فلما رجع سعد جاءه اهل العبد، فكلموه ان يرد على غلامهم او عليهم ما اخذ من غلامهم، فقال: معاذ الله ان ارد شيئا نفلنيه رسول الله صلى الله عليه وسلم، وابى ان يرد عليهم.وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، جميعا عَنِ الْعَقَدِيِّ ، قَالَ عبدَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ، فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ، فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى غُلَامِهِمْ أَوْ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ، فقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ.
‏‏‏‏ عامر بن سعد نے کہا کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اپنے مکان کو چلے جو عقیق میں تھا، راہ میں ایک غلام کو دیکھا کہ وہ ایک درخت کاٹ رہا ہے یا پتے توڑ رہا ہے۔ سو اس کے کپڑے چھین لئے اور اس کے گھر والے آئے اور انہوں نے کہا: آپ وہ اس کو پھیر دیجئے یا ہم کو عنایت کیجئے، انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی پناہ اس سے کہ میں وہ چیز پھیر دوں۔ جو مجھے بطریق انعام کے عنایت کی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ہرگز نہ پھیرا انہوں نے سامان اس کا۔
حدیث نمبر: 3321
Save to word اعراب
حدثنا يحيى بن ايوب ، وقتيبة بن سعيد ، وابن حجر ، جميعا عن إسماعيل ، قال ابن ايوب، حدثنا إسماعيل بن جعفر، اخبرني عمرو بن ابي عمرو مولى المطلب بن عبد الله بن حنطب، انه سمع انس بن مالك ، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لابي طلحة: " التمس لي غلاما من غلمانكم يخدمني "، فخرج بي ابو طلحة يردفني وراءه، فكنت اخدم رسول الله صلى الله عليه وسلم كلما نزل، وقال في الحديث: ثم اقبل حتى إذا بدا له احد، قال: " هذا جبل يحبنا ونحبه، فلما اشرف على المدينة، قال: اللهم إني احرم ما بين جبليها مثل ما حرم به إبراهيم مكة، اللهم بارك لهم في مدهم وصاعهم "،حدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيل ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ: " الْتَمِسْ لِي غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي "، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَاءَهُ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ، وقَالَ فِي الْحَدِيثِ: ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ، قَالَ: " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ "،
‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کہ ایک لڑکا ڈھونڈھو جو ہماری خدمت کرے۔ سو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے لے کر گئے اپنی سواری پر پیچھے بٹھا کر اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترتے تھے۔ پھر ایک حدیث میں کہا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ جب کوہ احد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احد ہم کو دوست رکھتا ہے اور ہم احد کو دوست رکھتے ہیں۔ پھر جب مدینہ کے قریب آئے تو فرمایا: کہ یا اللہ! حرام کرتا ہوں ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کو جیسا ابراہیم علیہ السلام نے حرام کیا مکہ کو۔ یا اللہ! برکت دے ان کو ان کے مد اور صاع میں۔
حدیث نمبر: 3322
Save to word اعراب
وحدثناه سعيد بن منصور ، وقتيبة بن سعيد ، قالا: حدثنا يعقوب وهو ابن عبد الرحمن القاري ، عن عمرو بن ابي عمرو ، عن انس بن مالك ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، بمثله غير انه قال: إني احرم ما بين لابتيها.وحدثناه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حدثنا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا.
‏‏‏‏ کہا مسلم رحمہ اللہ نے اور روایت کی ہم سے یہی حدیث سعید اور قتیبہ نے، ان سے یعقوب نے، ان سے عمرہ بن ابی عمرہ نے، ان سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مثل اس کے جو اوپر گزری مگر اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں حرام ٹھہراتا ہوں درمیان دونوں کالے پتھر والے میدانوں کے بیچ میں۔
حدیث نمبر: 3323
Save to word اعراب
وحدثناه حامد بن عمر ، حدثنا عبد الواحد ، حدثنا عاصم ، قال: قلت لانس بن مالك : " احرم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة؟ قال: " نعم، ما بين كذا إلى كذا فمن احدث فيها حدثا، قال: ثم قال لي: هذه شديدة من احدث فيها حدثا: فعليه لعنة الله، والملائكة، والناس اجمعين، لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا، ولا عدلا "، قال: فقال ابن انس: او آوى محدثا.وحدثناه حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حدثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حدثنا عَاصِمٌ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ؟ قَالَ: " نَعَمْ، مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي: هَذِهِ شَدِيدَةٌ مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا: فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا "، قَالَ: فقَالَ ابْنُ أَنَسٍ: أَوْ آوَى مُحْدِثًا.
‏‏‏‏ عاصم نے کہا: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم ٹھہرایا مدینہ کو؟ کہا: ہاں فلاں مقام سے فلاں تک۔ سو جو اس میں کوئی بات نکالے یعنی گناہ کی تو اس پر لعنت ہے اللہ تعالیٰ کی اور فرشتون اور لوگوں کی، نہ قبول کرے گا اللہ اس سے قیامت کے دن فرض نہ نفل۔ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے کہا: یا جگہ دی کسی نئے گناہ کی بات کرنے والے کو۔
حدیث نمبر: 3324
Save to word اعراب
حدثني زهير بن حرب ، حدثنا يزيد بن هارون ، اخبرنا عاصم الاحول ، قال: سالت انسا : احرم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة؟ قال: " نعم، هي حرام، لا يختلى خلاها فمن فعل ذلك، فعليه لعنة الله، والملائكة، والناس اجمعين ".حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا : أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ؟ قَالَ: " نَعَمْ، هِيَ حَرَامٌ، لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ".
‏‏‏‏ عاصم نے کہا کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا مدینہ کو حرم ٹھہرایا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں وہ حرم ہے نہ توڑا جائے گا درخت اس کا اور جو ایسا کرے گا اس پر اللہ اور فرشتوں اور لوگوں کی لعنت ہے۔
حدیث نمبر: 3325
Save to word اعراب
حدثنا قتيبة بن سعيد ، عن مالك بن انس فيما قرئ عليه، عن إسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة ، عن انس بن مالك : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " اللهم بارك لهم في مكيالهم، وبارك لهم في صاعهم، وبارك لهم في مدهم ".حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ ".
‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «‏‏‏‏اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِى مِكْيَالِهِمْ وَبَارِكْ لَهُمْ فِى صَاعِهِمْ وَبَارِكْ لَهُمْ فِى مُدِّهِمْ» ‏‏‏‏ کہ یااللہ! برکت دے ان کو (یعنی مدینہ والوں کو) ان کے ماپ میں اور برکت دے ان کے صاع میں اور برکت دے ان کے مد میں۔
حدیث نمبر: 3326
Save to word اعراب
وحدثني زهير بن حرب ، وإبراهيم بن محمد السامي ، قالا: حدثنا وهب بن جرير ، حدثنا ابي ، قال: سمعت يونس ، يحدث، عن الزهري ، عن انس بن مالك ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اللهم اجعل بالمدينة ضعفي ما بمكة من البركة ".وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّامِيُّ ، قَالَا: حدثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حدثنا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ ، يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ ".
‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَىْ مَا بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ» کہ یا اللہ! مدینہ میں مکہ سے دوگنی برکت دے۔
حدیث نمبر: 3327
Save to word اعراب
وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وزهير بن حرب ، وابو كريب ، جميعا عن ابي معاوية ، قال ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش ، عن إبراهيم التيمي ، عن ابيه ، قال: خطبنا علي بن ابي طالب ، فقال: من زعم ان عندنا شيئا نقرؤه إلا كتاب الله، وهذه الصحيفة، قال: وصحيفة معلقة في قراب سيفه، فقد كذب فيها اسنان الإبل، واشياء من الجراحات، وفيها قال النبي صلى الله عليه وسلم: " المدينة حرم ما بين عير إلى ثور، فمن احدث فيها حدثا، او آوى محدثا، فعليه لعنة الله، والملائكة، والناس اجمعين، لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا، ولا عدلا، وذمة المسلمين واحدة يسعى بها ادناهم، ومن ادعى إلى غير ابيه، او انتمى إلى غير مواليه، فعليه لعنة الله، والملائكة، والناس اجمعين، لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا، ولا عدلا "، وانتهى حديث ابي بكر، وزهير، عند قوله: يسعى بها ادناهم، ولم يذكرا ما بعده، وليس في حديثهما: معلقة في قراب سيفه،وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ، حدثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حدثنا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فقَالَ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ عَنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ، قَالَ: وَصَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ، فَقَدْ كَذَبَ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ، وَأَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ، وَفِيهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا "، وَانْتَهَى حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ، وَزُهَيْرٍ، عَنْدَ قَوْلِهِ: يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا: مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ،
‏‏‏‏ ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت کہ خطبہ پڑھا ہم پر سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے اور فرمایا: کہ جو دعویٰ کرے کہ ہمارے پاس (یعنی اہل بیت کے) کوئی اور چیز ہے سوا کتاب اللہ کے اور اس صحیفہ کے اور راوی نے کہا کہ ایک صحیفہ لٹکا ہوا تھا ان کی تلوار کی میان میں تو اس نے جھوٹ کہا اور اس صحیفہ میں اونٹوں کی عمریں (یعنی زکوٰۃ کے متعلقات) اور کچھ زخموں کا بیان تھا (یعنی ان کے قصاص اور دیتوں کا بیان) اور اس صحیفہ میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ حرم ہے عیر اور ثور کے بیچ میں سو جو شخص کہ کوئی نئی بات نکالے اس جگہ یا جگہ دے کسی نئی بات نکالنے والوں کو تو اس پر لعنت ہے اللہ تعالیٰ کی اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی، نہ قبول کرے گا اللہ تعالیٰ اس کا کوئی فرض، نہ سنت اور امان دینا ہر مسلمان کا برابر ہے کہ اعتبار کیا جاتا ہے ادنیٰ مسلمان کی پناہ دینے کا بھی اور جس نے اپنے کو اپنے باپ کے سوا غیر کا فرزند ٹھہرایا یا اپنے آقاؤں کے سوا کسی دوسرے کا غلام اپنے کو قرار دیا، اس پر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے اور نہ قبول کرے گا اس سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ فرض، نہ سنت۔ مسلم رحمہ اللہ نے کہا کہ روایت ابوبکر و زہیر کی تو وہیں تک ہو چکی کہ ادنیٰ مسلمان کی پناہ دینے کا بھی اعتبار ہے اور ان دونوں کی روایت میں یہ ذکر نہیں کہ صحیفہ تلوار کے میان میں لٹکا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 3328
Save to word اعراب
وحدثني علي بن حجر السعدي ، اخبرنا علي بن مسهر . ح وحدثني ابو سعيد الاشج ، حدثنا وكيع ، جميعا عن الاعمش ، بهذا الإسناد، نحو حديث ابي كريب، عن ابي معاوية، إلى آخره، وزاد فى الحديث «‏‏‏‏فمن اخفر مسلما فعليه لعنة الله والملائكة والناس اجمعين لا يقبل منه يوم القيامة صرف ولا عدل» .‏‏‏‏ وليس فى حديثهما «‏‏‏‏من ادعى إلى غير ابيه» .‏‏‏‏ وليس فى رواية وكيع ذكر يوم القيامة.وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حدثنا وَكِيعٌ ، جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، إِلَى آخِرِهِ، وَزَادَ فِى الْحَدِيثِ «‏‏‏‏فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ» .‏‏‏‏ وَلَيْسَ فِى حَدِيثِهِمَا «‏‏‏‏مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ» .‏‏‏‏ وَلَيْسَ فِى رِوَايَةِ وَكِيعٍ ذِكْرُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
‏‏‏‏ اعمش نے اسی اسناد سے یہی مضمون مثل ابوکریب کے روایت کیا جو ابو معاویہ سے مروی ہے، اخیر تک بیان فرمایا اور اتنا زیادہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ جو پناہ توڑے کسی مسلمان کی اس پر لعنت ہے اللہ تعالیٰ کی اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی نہ قبول کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ فرض، نہ سنت۔ اور ان کی دونوں حدیثوں میں یہ مضمون نہیں ہے کہ جو اپنے کو باپ کے سوا کسی غیر کا فرزند بنا دے اور وکیع کی روایت میں قیامت کا دن مذکور نہیں۔
حدیث نمبر: 3329
Save to word اعراب
وحدثني عبيد الله بن عمر القواريري ، ومحمد بن ابي بكر المقدمي ، قالا: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي ، حدثنا سفيان ، عن الاعمش ، بهذا الإسناد، نحو حديث ابن مسهر، ووكيع، إلا قوله: من تولى غير مواليه، وذكر اللعنة له.وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَا: حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، وَوَكِيعٍ، إِلَّا قَوْلَهُ: مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، وَذِكْرَ اللَّعْنَةِ لَهُ.
‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث چند الفاظ کے فرق سے اس سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 3330
Save to word اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا حسين بن علي الجعفي ، عن زائدة ، عن سليمان ، عن ابي صالح ، عن ابي هريرة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " المدينة حرم، فمن احدث فيها حدثا، او آوى محدثا، فعليه: لعنة الله، والملائكة، والناس اجمعين، لا يقبل منه يوم القيامة عدل، ولا صرف "،حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمَدِينَةُ حَرَمٌ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ: لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ "،
‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ حرم ہے پھر جو کوئی اس میں گناہ کرے یا کوئی گناہ کرنے والے کو جگہ دے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے اور نہ قبول کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کوئی فرض نہ نفل۔
حدیث نمبر: 3331
Save to word اعراب
وحدثنا ابو بكر بن النضر بن ابي النضر ، حدثني ابو النضر ، حدثني عبيد الله الاشجعي ، عن سفيان ، عن الاعمش ، بهذا الإسناد مثله، ولم يقل: يوم القيامة، وزاد: وذمة المسلمين واحدة يسعى بها ادناهم، فمن اخفر مسلما، فعليه: لعنة الله، والملائكة، والناس اجمعين، لا يقبل منه يوم القيامة عدل، ولا صرف.وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَزَادَ: وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا، فَعَلَيْهِ: لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ.
‏‏‏‏ مذکورہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے اس میں «يوم القيامه» کے الفاظ نہیں اور یہ اضافہ ہے کہ مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے اور ایک عام مسلمان کی پناہ کا بھی اعتبار کیا جائے گا جس کسی نے مسلمانوں کی پناہ کو توڑا تو اس پر اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اس سے قیامت کے دن کوئی نفل اور فرض قبول نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3332
Save to word اعراب
حدثنا يحيى بن يحيى ، قال: قرات على مالك ، عن ابن شهاب ، عن سعيد بن المسيب ، عن ابي هريرة : انه كان يقول: لو رايت الظباء ترتع بالمدينة ما ذعرتها، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما بين لابتيها حرام ".حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ ".
‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ اگر میں کسی ہرن کو مدینہ میں چرتا دیکھتا ہوں تو کبھی نہ ڈراؤں اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: کہ دونوں کالے پتھروں والے میدانوں کے بیچ میں حرم ہے۔
حدیث نمبر: 3333
Save to word اعراب
وحدثنا إسحاق بن إبراهيم ، ومحمد بن رافع ، وعبد بن حميد ، قال إسحاق: اخبرنا عبد الرزاق ، حدثنا معمر ، عن الزهري ، عن سعيد بن المسيب ، عن ابي هريرة ، قال: " حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما بين لابتي المدينة، قال ابو هريرة: فلو وجدت الظباء ما بين لابتيها ما ذعرتها، وجعل اثني عشر ميلا حول المدينة حمى ".وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ إِسْحَاقَ: أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حدثنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَلَوْ وَجَدْتُ الظِّبَاءَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا مَا ذَعَرْتُهَا، وَجَعَلَ اثْنَيْ عَشَرَ مِيلًا حَوْلَ الْمَدِينَةِ حِمًى ".
‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم قرار دیا دونوں کالے پتھروں والے میدانوں کے بیچ میں کہ جو مدینہ کے مشرق اور مغرب کی طرف واقع ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں کسی ہرن کو پاؤں جو ان کے بیچ میں چرتا ہو تو کبھی نہ ڈراؤں اور نہ بھگاؤں اس کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ میل کو مدینہ کے گرداگرد رمنا مقرر کر دیا۔
حدیث نمبر: 3334
Save to word اعراب
حدثنا قتيبة بن سعيد ، عن مالك بن انس ، فيما قرئ عليه، عن سهيل بن ابي صالح ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ، انه قال: كان الناس إذا راوا اول الثمر جاءوا به إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فإذا اخذه رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " اللهم بارك لنا في ثمرنا، وبارك لنا في مدينتنا، وبارك لنا في صاعنا، وبارك لنا في مدنا، اللهم إن إبراهيم عبدك، وخليلك، ونبيك، وإني عبدك، ونبيك، وإنه دعاك لمكة، وإني ادعوك للمدينة، بمثل ما دعاك لمكة، ومثله معه "، قال: ثم يدعو اصغر وليد له، فيعطيه ذلك الثمر.حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرِ جَاءُوا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ، وَخَلِيلُكَ، وَنَبِيُّكَ، وَإِنِّي عَبْدُكَ، وَنَبِيُّكَ، وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ، وَإِنِّي أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ، بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ لِمَكَّةَ، وَمِثْلِهِ مَعَهُ "، قَالَ: ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ لَهُ، فَيُعْطِيهِ ذَلِكَ الثَّمَرَ.
‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگوں کی عادت تھی کہ جب نیا کوئی پھل دیکھتے تھے (یعنی ابتدائے فصل کا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس کو لے لیتے تو دعا کرتے «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى ثَمَرِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِى مَدِينَتِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِى صَاعِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِى مُدِّنَا اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنِّى عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَإِنِّى أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَمِثْلِهِ مَعَهُ» کہ یا اللہ! برکت دے ہمارے پھلوں میں، برکت دے ہمارے شہر میں، اور برکت دے ہمارے صاع میں، اور برکت دے ہمارے مد میں۔ یا اللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے غلام اور تیرے دوست اور تیرے نبی تھے اور میں تیرا غلام اور نبی ہوں اور انہوں نے دعا کی تجھ سے مکہ کے لیے اور میں دعا کرتا ہوں تجھ سے مدینہ کے لیے اس کے برابر جو انہوں نے مکہ کے لیے کی مثل اس کے اور بھی۔ اس کے ساتھ بلاتے آپ کسی چھوٹے لڑکے اپنے کو اور وہ پھل اسے دے دیتے۔
حدیث نمبر: 3335
Save to word اعراب
حدثنا يحيى بن يحيى ، اخبرنا عبد العزيز بن محمد المدني ، عن سهيل بن ابي صالح ، عن ابيه ، عن ابي هريرة : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يؤتى باول الثمر، فيقول: " اللهم بارك لنا في مدينتنا، وفي ثمارنا، وفي مدنا، وفي صاعنا بركة مع بركة، ثم يعطيه اصغر من يحضره من الولدان ".حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِأَوَّلِ الثَّمَرِ، فَيَقُولُ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، وَفِي ثِمَارِنَا، وَفِي مُدِّنَا، وَفِي صَاعَنْا بَرَكَةً مَعَ بَرَكَةٍ، ثُمَّ يُعْطِيهِ أَصْغَرَ مَنْ يَحْضُرُهُ مِنَ الْوِلْدَانِ ".
‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہلا پھل آتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى مَدِينَتِنَا وَفِى ثِمَارِنَا وَفِى مُدِّنَا وَفِى صَاعِنَا بَرَكَةً مَعَ بَرَكَةٍ» کہ یااللہ! برکت دے ہمارے شہر میں اور ہمارے پھلوں میں اور ہمارے مدینہ میں، اور ہمارے صاع میں برکت پر برکت دے۔ پھر وہ پھل دے دیتے کسی چھوٹے لڑکے کو جو اس وقت حاضر ہوتا۔

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.