الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب الْحَجِّ
حج کے احکام و مسائل
The Book of Pilgrimage
86. باب التَّرْغِيبِ فِي سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ عَلَى لأْوَائِهَا:
باب: مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کرنے کی ترغیب اور وہاں کی تکالیف پر صبر کرنے کا بیان۔
Chapter: Encouragement to live in Al-Madinah and to be patient on bearing its distress and hardships
حدیث نمبر: 3336
Save to word اعراب
حدثنا حماد بن إسماعيل ابن علية ، حدثنا ابي ، عن وهيب ، عن يحيى بن ابي إسحاق ، انه حدث، عن ابي سعيد مولى المهري: انه اصابهم بالمدينة جهد وشدة، وانه اتى ابا سعيد الخدري، فقال له: إني كثير العيال، وقد اصابتنا شدة، فاردت ان انقل عيالي إلى بعض الريف، فقال ابو سعيد : لا تفعل الزم المدينة، فإنا خرجنا مع نبي الله صلى الله عليه وسلم، اظن انه قال: حتى قدمنا عسفان، فاقام بها ليالي، فقال الناس: والله ما نحن ها هنا في شيء وإن عيالنا لخلوف، ما نامن عليهم، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: " ما هذا الذي بلغني من حديثكم، ما ادري كيف، قال: " والذي احلف به، او والذي نفسي بيده لقد هممت او إن شئتم لا ادري ايتهما قال لآمرن بناقتي ترحل، ثم لا احل لها عقدة حتى اقدم المدينة، وقال: " اللهم إن إبراهيم حرم مكة، فجعلها حرما، وإني حرمت المدينة حراما ما بين مازميها، ان لا يهراق فيها دم، ولا يحمل فيها سلاح لقتال، ولا تخبط فيها شجرة إلا لعلف، اللهم بارك لنا في مدينتنا، اللهم بارك لنا في صاعنا، اللهم بارك لنا في مدنا، اللهم بارك لنا في صاعنا، اللهم بارك لنا في مدنا، اللهم بارك لنا في مدينتنا، اللهم اجعل مع البركة بركتين، والذي نفسي بيده، ما من المدينة شعب ولا نقب، إلا عليه ملكان يحرسانها حتى تقدموا إليها "، ثم قال للناس: " ارتحلوا "، فارتحلنا، فاقبلنا إلى المدينة، فوالذي نحلف به او يحلف به، الشك من: حماد ما وضعنا رحالنا حين دخلنا المدينة حتى اغار علينا بنو عبد الله بن غطفان، وما يهيجهم قبل ذلك شيء.حدثنا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيل ابْنِ عُلَيَّةَ ، حدثنا أَبِي ، عَنْ وُهَيْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ حَدَّثَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ: أَنَّهُ أَصَابَهُمْ بِالْمَدِينَةِ جَهْدٌ وَشِدَّةٌ، وَأَنَّهُ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فقَالَ لَهُ: إِنِّي كَثِيرُ الْعِيَالِ، وَقَدْ أَصَابَتْنَا شِدَّةٌ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْقُلَ عِيَالِي إِلَى بَعْضِ الرِّيفِ، فقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : لَا تَفْعَلِ الْزَمِ الْمَدِينَةَ، فَإِنَّا خَرَجْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَظُنُّ أَنَّهُ قَالَ: حَتَّى قَدِمْنَا عُسْفَانَ، فَأَقَامَ بِهَا لَيَالِيَ، فقَالَ النَّاسُ: وَاللَّهِ مَا نَحْنُ هَا هُنَا فِي شَيْءٍ وَإِنَّ عِيَالَنَا لَخُلُوفٌ، مَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِكُمْ، مَا أَدْرِي كَيْفَ، قَالَ: " وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ، أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ إِنْ شِئْتُمْ لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ لَآمُرَنَّ بِنَاقَتِي تُرْحَلُ، ثُمَّ لَا أَحُلُّ لَهَا عُقْدَةً حَتَّى أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، فَجَعَلَهَا حَرَمًا، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا، أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ، وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ، وَلَا تُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلَّا لِعَلْفٍ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنَ الْمَدِينَةِ شِعْبٌ وَلَا نَقْبٌ، إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا حَتَّى تَقْدَمُوا إِلَيْهَا "، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: " ارْتَحِلُوا "، فَارْتَحَلْنَا، فَأَقْبَلْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَوَالَّذِي نَحْلِفُ بِهِ أَوْ يُحْلَفُ بِهِ، الشَّكُّ مِنْ: حَمَّادٍ مَا وَضَعَنْا رِحَالَنَا حِينَ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى أَغَارَ عَلَيْنَا بَنُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ، وَمَا يَهِيجُهُمْ قَبْلَ ذَلِكَ شَيْءٌ.
‏‏‏‏ ابوسعید نے کہا کہ ہم کو مدینہ میں ایک بار محنت اور شامت فاقہ کو پہنچی اور میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ میں کثیر العیال ہوں اور ہم کو سختی پہنچی ہے اور میں نے ارادہ کیا ہے کہ اپنے عیال کو کسی ارزاں اور سرسبز ملک میں لے جاؤں۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مدینہ کو نہ چھوڑو اس لیے کہ ہم ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے میں گمان کرتا ہوں کہ انہوں نے کہ یہاں تک کہ عسفان تک پہنچ گئے اور وہاں کئی شب ٹھہرے، سو لوگوں نے کہا: قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ ہم یہاں بے کار ٹھہرے ہوئے ہیں اور ہمارے عیال پیچھے چھٹے ہوئے ہیں اور ہم کو ان کے اوپر اطمینان نہیں (یعنی خوف ہے کہ کوئی دشمن نہ ستائے) اور یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کہ یہ کیا بات ہے جو مجھ کو پہنچی ہے؟۔ راوی نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ یہ کیا بات ہے؟ فرمایا: قسم ہے اس اللہ کی جس کی میں قسم کھاتا ہوں یا فرمایا: قسم ہے اس پروردگار کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے البتہ میں نے ارادہ کیا یا فرمایا: اگر چاہو تم۔ میں نہیں جانتا کہ کیا فرمایا ان دونوں باتوں میں سے۔ فرمایا: کہ البتہ حکم کروں میں اپنی اونٹنی کو کہ وہ کسی جائے اور پھر اس کی ایک گرہ بھی نہ کھولوں یہاں تک کہ داخل ہوں میں مدینہ میں۔ اور فرمایا: کہ یا اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں نے مدینہ کو حرم ٹھہرایا دو گھاٹیوں یا دو پہاڑوں کے بیچ میں کہ نہ اس میں خون بہایا جائے اور نہ اس میں لڑائی کے لیے ہتھیار اٹھایا جائے، نہ اس میں کسی درخت کے پتے جھاڑے جائیں مگر صرف چارے کے لیے (کہ اس سے درخت کا چنداں نقصان نہیں ہوتا) (فرمایا) «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى مَدِينَتِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى صَاعِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى مُدِّنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى صَاعِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى مُدِّنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى مَدِينَتِنَا اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ» یا اللہ! برکت دے ہمارے شہر میں۔ یا اللہ! برکت دے ہماری چوسیری میں، یا اللہ! برکت دے ہمارے سیر میں، یا اللہ! برکت دے ہمارے شہر میں، یا اللہ برکت کے ساتھ دو برکتیں اور دے۔ اور فرمایا: قسم ہے اس پروردگار کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے کہ کوئی گھاٹی اور کوئی ناکہ مدینہ کا ایسا نہیں ہے جس پر دو فرشتے نگہبان نہ ہوں جب تک کہ تم وہاں نہ پہنچو گے۔ (یعنی جب تک وہ نگہبان رہیں گے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوچ کرو۔ اور ہم نے کوچ کیا اور مدینہ میں آئے سو ہم قسم کھاتے ہیں اس پروردگار کی جس کی ہمیشہ قسم کھایا کرتے ہیں یا کہا: جس کی قسم کھائی جاتی ہے۔ غرض حماد کو اس میں شک ہوا غرض جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم نے ابھی کجاوے اونٹوں پر سے نہیں اتارے تھے کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے ہم پر ڈاکہ ڈالا اور اس سے پہلے ان کی ہمت نہ ہوئی (کہ وہاں آ سکیں یہ تصدیق ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے کی کہ فرشتے وہاں نگہبان ہیں)۔
حدیث نمبر: 3337
Save to word اعراب
وحدثنا زهير بن حرب ، حدثنا إسماعيل ابن علية ، عن علي بن المبارك ، حدثنا يحيى بن ابي كثير ، حدثنا ابو سعيد مولى المهري، عن ابي سعيد الخدري ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " اللهم بارك لنا في صاعنا، ومدنا واجعل مع البركة بركتين "،وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حدثنا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا، وَمُدِّنَا وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ "،
‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى صَاعِنَا وَمُدِّنَا وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ» کہ یا اللہ! برکت دے ہمارے مد میں، اور ہمارے صاع میں، اور ایک برکت پر دو برکتیں اور عنایت فرما۔
حدیث نمبر: 3338
Save to word اعراب
وحدثناه ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عبيد الله بن موسى ، اخبرنا شيبان . ح وحدثني إسحاق بن منصور ، اخبرنا عبد الصمد ، حدثنا حرب يعني ابن شداد ، كلاهما عن يحيى بن ابي كثير ، بهذا الإسناد مثله.وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنا شَيْبَانُ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حدثنا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 3339
Save to word اعراب
وحدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث ، عن سعيد بن ابي سعيد ، عن ابي سعيد مولى المهري: انه جاء ابا سعيد الخدري ليالي الحرة، فاستشاره في الجلاء من المدينة، وشكا إليه اسعارها، وكثرة عياله، واخبره ان لا صبر له على جهد المدينة ولاوائها، فقال له: ويحك لا آمرك بذلك إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " لا يصبر احد على لاوائها فيموت، إلا كنت له شفيعا، او شهيدا يوم القيامة إذا كان مسلما ".وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ: أَنَّهُ جَاءَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَيَالِي الْحَرَّةِ، فَاسْتَشَارَهُ فِي الْجَلَاءِ مِنَ الْمَدِينَةِ، وَشَكَا إِلَيْهِ أَسْعَارَهَا، وَكَثْرَةَ عِيَالِهِ، وَأَخْبَرَهُ أَنْ لَا صَبْرَ لَهُ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ وَلَأْوَائِهَا، فقَالَ لَهُ: وَيْحَكَ لَا آمُرُكَ بِذَلِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا فَيَمُوتَ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا ".
‏‏‏‏ ابو سعید مولیٰ مہری سے روایت ہے کہ وہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے حرہ کی راتوں میں (یعنی جن دنوں مدینہ طیبہ میں ایک فتنہ مشہور ہوا ہے اور ظالموں نے مدینہ طیبہ کو لوٹا ہے سن ۶۳ ہجری میں) اور مشورہ کیا ان سے کہ مدینہ سے کہیں اور چلے جائیں اور شکایت کی ان سے وہاں کی گرانی نرخ کی اور کثرت عیال کی اور خبر دی ان کو کہ مجھے صبر نہیں آ سکتا مدینہ کی محنت اور بھوک پر، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ خرابی ہو تیری میں تجھے تھوڑے یہاں رہنے کا حکم کرتا ہوں بلکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے: کہ صبر نہیں کرتا ہے کوئی یہاں کی تکلیفوں پر اور پھر مر جاتا ہے مگر اس کا شفیع یا گواہ ہوں قیامت کے دن جب وہ مسلمان ہو۔
حدیث نمبر: 3340
Save to word اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، ومحمد بن عبد الله بن نمير ، وابو كريب ، جميعا عن ابي اسامة واللفظ لابي بكر، وابن نمير، قالا: حدثنا ابو اسامة، عن الوليد بن كثير ، حدثني سعيد بن عبد الرحمن بن ابي سعيد الخدري ، ان عبد الرحمن ، حدثه، عن ابيه ابي سعيد ، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " إني حرمت ما بين لابتي المدينة كما حرم إبراهيم مكة "، قال: ثم كان ابو سعيد ياخذ، وقال ابو بكر: يجد احدنا في يده الطير فيفكه من يده ثم يرسله.حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، وَابْنِ نُمَيْرٍ، قَالَا: حدثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ "، قَالَ: ثُمَّ كَانَ أَبُو سَعِيدٍ يَأْخُذُ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَجِدُ أَحَدَنَا فِي يَدِهِ الطَّيْرُ فَيَفُكُّهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ يُرْسِلُهُ.
‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے: میں نے حرم مقرر کیا ہے درمیان دونوں کالے پتھروں کے میدانوں میں مدینہ کے جیسے حرم قرار دیا تھا ابرہیم علیہ السلام نے مکہ کو۔ یہاں تک کہ ایک ہم میں کا پاتا تھا یا لیتا تھا اپنے ہاتھ میں چڑیا اور اس کو جدا کر دیتا تھا پھر چھوڑ دیتا تھا۔
حدیث نمبر: 3341
Save to word اعراب
وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا علي بن مسهر ، عن الشيباني ، عن يسير بن عمرو ، عن سهل بن حنيف ، قال: " اهوى رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده إلى المدينة، فقال: إنها حرم آمن ".وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: " أَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فقَالَ: إِنَّهَا حَرَمٌ آمِنٌ ".
‏‏‏‏ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک مدینہ کی طرف جھکایا اور فرمایا: کہ وہ حرم ہے اور امن کی جگہ ہے۔
حدیث نمبر: 3342
Save to word اعراب
وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عبدة ، عن هشام ، عن ابيه ، عن عائشة ، قالت: قدمنا المدينة وهي وبيئة، فاشتكى ابو بكر، واشتكى بلال، فلما راى رسول الله صلى الله عليه وسلم شكوى اصحابه، قال: " اللهم حبب إلينا المدينة كما حببت مكة، او اشد وصححها، وبارك لنا في صاعها، ومدها، وحول حماها إلى الجحفة "،وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ وَبِيئَةٌ، فَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَاشْتَكَى بِلَالٌ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكْوَى أَصْحَابِهِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ مَكَّةَ، أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا، وَمُدِّهَا، وَحَوِّلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ "،
‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جب ہم مدینہ تشریف لائے تو وہاں وبا تھی اور سیدنا ابوبکر اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما بیمار ہوئے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی بیماری دیکھی تو دعا کی «اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِى صَاعِهَا وَمُدِّهَا وَحَوِّلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ» یااللہ دوست کر دے ہمارے مدینہ کو جیسے دوست کیا تھا تو نے مکہ کو، یا اس سے بھی زیادہ اور صحت عطا کر اس کے رہنے والوں کو اور برکت دے ہم کو اس کے چوسیری اور سیر میں اور اس کے بخار کو جحفہ کی طرف پھیر دے۔
حدیث نمبر: 3343
Save to word اعراب
وحدثنا ابو كريب ، حدثنا ابو اسامة ، وابن نمير ، عن هشام بن عروة ، بهذا الإسناد نحوه.وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
‏‏‏‏ مذکورہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 3344
Save to word اعراب
حدثني زهير بن حرب ، حدثنا عثمان بن عمر ، اخبرنا عيسى بن حفص بن عاصم ، حدثنا نافع ، عن ابن عمر ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " من صبر على لاوائها، كنت له شفيعا، او شهيدا يوم القيامة ".حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، حدثنا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا، كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے: جو صبر کرے مدینہ کی بھوک پر میں اس کا شفیع یا گواہ ہوں گا قیامت کے دن۔
حدیث نمبر: 3345
Save to word اعراب
حدثنا يحيى بن يحيى ، قال: قرات على مالك ، عن قطن بن وهب بن عويمر بن الاجدع ، عن يحنس مولى الزبير، اخبره: انه كان جالسا عند عبد الله بن عمر في الفتنة، فاتته مولاة له تسلم عليه، فقالت: إني اردت الخروج يا ابا عبد الرحمن، اشتد علينا الزمان، فقال لها عبد الله : اقعدي لكاع، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " لا يصبر على لاوائها وشدتها احد، إلا كنت له شهيدا او شفيعا يوم القيامة ".حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عَنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْفِتْنَةِ، فَأَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ، فقَالَت: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، اشْتَدَّ عَلَيْنَا الزَّمَانُ، فقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ : اقْعُدِي لَكَاعِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
‏‏‏‏ یحنس زبیر کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آزاد باندی آئی اور ان کو سلام کیا اور یہ فتنہ کے دن تھے (یعنی فتنہ حرہ کے دن جس کا ذکر ابھی تھوڑی دیر پہلے گزرا) اور اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! (یہ کنیت ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی) ہم پر سخت دن ہیں اور میں ارادہ کرتی ہوں مدینہ سے نکلنے کا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ بیٹھ اے نادان! اس لئے کہ میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے: جو صبر کرے گا مدینہ کی بھوک، پیاس اور مشقت پر تو میں اس کا شفیع ہوں گا (یعنی اگر وہ گنہگار ہے) یا گواہ ہوں گا (یعنی اگر وہ نیکوکار ہے) قیامت کے دن۔
حدیث نمبر: 3346
Save to word اعراب
وحدثنا محمد بن رافع ، حدثنا ابن ابي فديك ، اخبرنا الضحاك ، عن قطن الخزاعي ، عن يحنس مولى مصعب، عن عبد الله بن عمر ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " من صبر على لاوائها وشدتها، كنت له شهيدا، او شفيعا يوم القيامة " يعني: المدينة.وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنا الضَّحَّاكُ ، عَنْ قَطَنٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى مُصْعَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا، كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا، أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " يَعْنِي: الْمَدِينَةَ.
‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ وہی قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3347
Save to word اعراب
وحدثنا يحيى بن ايوب ، وقتيبة ، وابن حجر ، جميعا عن إسماعيل بن جعفر ، عن العلاء بن عبد الرحمن ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " لا يصبر على لاواء المدينة، وشدتها احد من امتي، إلا كنت له شفيعا يوم القيامة، او شهيدا "،وحدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ، وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَوْ شَهِيدًا "،
‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 3348
Save to word اعراب
وحدثنا ابن ابي عمر ، حدثنا سفيان ، عن ابي هارون موسى بن ابي عيسى ، انه سمع ابا عبد الله القراظ ، يقول: سمعت ابا هريرة ، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بمثله.وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔
حدیث نمبر: 3349
Save to word اعراب
وحدثني يوسف بن عيسى ، حدثنا الفضل بن موسى ، اخبرنا هشام بن عروة ، عن صالح بن ابي صالح عن ابيه ، عن ابي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يصبر احد على لاواء المدينة "، بمثله.وحَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عِيسَى ، حدثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِح عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ "، بِمِثْلِهِ.
‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث روایت کی گئی ہے۔

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.