الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
كتاب مناسك الحج
کتاب: حج کے احکام و مناسک
The Book of Hajj
99. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ أَنْ يُحَنَّطَ الْمُحْرِمُ إِذَا مَاتَ
باب: محرم مر جائے تو اسے خوشبو نہ لگائی جائے۔
Chapter: The Prohibition Of Applying Aromatics To The Muhrum If He Dies
حدیث نمبر: 2858
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا قتيبة، قال: حدثنا حماد، عن ايوب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال: بينا رجل واقف بعرفة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، إذ وقع من راحلته، فاقعصه او قال: فاقعصته، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" اغسلوه بماء وسدر، وكفنوه في ثوبين، ولا تحنطوه، ولا تخمروا راسه، فإن الله عز وجل يبعثه يوم القيامة ملبيا".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَا رَجُلٌ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَأَقْعَصَهُ أَوْ قَالَ: فَأَقْعَصَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص عرفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا تھا کہ وہ اپنی سواری سے گر گیا اور اس کی اونٹنی نے اسے کچل کر ہلاک کر دیا۔ (راوی کو شک ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «فأقعصه» (مذکر کے صیغہ کے ساتھ) کہا یا «فأقعصته» (مونث کے صیغہ کے ساتھ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کے سر کو ڈھانپو، اس لیے کہ اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھائے گا۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 19 (1265)، 20 (1266)، 21 (1268)، جزاء الصید 20 (1850)، صحیح مسلم/الحج 14 (1206)، سنن الدارمی/المناسک 3239، 3240)، (تحفة الأشراف: 5437)، مسند احمد (1/333)، سنن الدارمی/المناسک 35 (1894) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 2859
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرني محمد بن قدامة، قال: حدثنا جرير، عن منصور، عن الحكم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال: وقصت رجلا محرما ناقته، فقتلته، فاتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:" اغسلوه، وكفنوه، ولا تغطوا راسه ولا تقربوه طيبا، فإنه يبعث يهل".
(مرفوع) أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَقَصَتْ رَجُلًا مُحْرِمًا نَاقَتُهُ، فَقَتَلَتْهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" اغْسِلُوهُ، وَكَفِّنُوهُ، وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک محرم شخص کو اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی اور اسے ہلاک کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے نہلاؤ، اور کفناؤ، (لیکن) اس کا سر نہ ڈھانپنا اور نہ اسے خوشبو لگانا کیونکہ وہ (قیامت کے دن) لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 13 (1839)، سنن ابی داود/المناسک 84 (3241)، (تحفة الأشراف: 5497)، مسند احمد (1/266) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.