الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
كتاب مناسك الحج
کتاب: حج کے احکام و مناسک
The Book of Hajj
163. بَابُ: الْقَوْلِ بَعْدَ رَكْعَتَىِ الطَّوَافِ
باب: طواف کی دو رکعت پڑھنے کے بعد کیا کہے؟
Chapter: What To Say After The Two Rakahs Of Tawaf
حدیث نمبر: 2964
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن شعيب، قال: انبانا الليث، عن ابن الهاد، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، قال:" طاف رسول الله صلى الله عليه وسلم بالبيت سبعا، رمل منها ثلاثا، ومشى اربعا، ثم قام عند المقام، فصلى ركعتين، ثم قرا: واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى سورة البقرة آية 125 , ورفع صوته يسمع الناس، ثم انصرف، فاستلم، ثم ذهب، فقال: نبدا بما بدا الله به، فبدا بالصفا، فرقي عليها حتى بدا له البيت، فقال ثلاث مرات: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، يحيي ويميت، وهو على كل شيء قدير، فكبر الله وحمده، ثم دعا بما قدر له، ثم نزل ماشيا حتى تصوبت قدماه في بطن المسيل، فسعى حتى صعدت قدماه، ثم مشى حتى اتى المروة فصعد فيها، ثم بدا له البيت، فقال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، قال: ذلك ثلاث مرات، ثم ذكر الله وسبحه، وحمده، ثم دعا عليها بما شاء الله، فعل هذا حتى فرغ من الطواف".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، رَمَلَ مِنْهَا ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ قَامَ عِنْدَ الْمَقَامِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 , وَرَفَعَ صَوْتَهُ يُسْمِعُ النَّاسَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَاسْتَلَمَ، ثُمَّ ذَهَبَ، فَقَالَ: نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، فَبَدَأَ بِالصَّفَا، فَرَقِيَ عَلَيْهَا حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، فَقَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، فَكَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَا قُدِّرَ لَهُ، ثُمَّ نَزَلَ مَاشِيًا حَتَّى تَصَوَّبَتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ، فَسَعَى حَتَّى صَعِدَتْ قَدَمَاهُ، ثُمَّ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَصَعِدَ فِيهَا، ثُمَّ بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، فَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، قَالَ: ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ وَسَبَّحَهُ، وَحَمِدَهُ، ثُمَّ دَعَا عَلَيْهَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ، فَعَلَ هَذَا حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے سات پھیرے کئے ان میں سے تین میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلے پھر مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہو کر دو رکعات پڑھیں، پھر آپ نے آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ پڑھی اور اپنی آواز بلند کی آپ لوگوں کو سنا رہے تھے۔ پھر آپ وہاں سے پلٹے اور جا کر حجر اسود کا استلام کیا اور فرمایا: کہ ہم وہیں (سعی) شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے (اپنی کتاب میں) شروع کی ہے، تو آپ نے صفا سے سعی شروع کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ آپ کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین مرتبہ «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہا، پھر آپ نے اللہ کی تکبیر اور تحمید کی۔ اور دعا کی جواب آپ کے لیے مقدر تھی، پھر آپ پیدل چل کر نیچے اترے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم وادی کے نشیب میں رہے پھر دوڑے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم بلندی پر چڑھے، پھر عام چال چلے یہاں تک کہ مروہ کے پاس آئے اور اس پر چڑھے پھر خانہ کعبہ آپ کو دکھائی دینے لگا تو آپ نے «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» تین بار کہا۔ پھر اللہ کا ذکر کیا اور اس کی تسبیح و تحمید کی۔ اور دعا کی جو اللہ کو منظور تھی ہر بار ایسا ہی کیا یہاں تک کہ سعی سے فارغ ہوئے۔

تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/ الحروف 1 (3969)، سنن الترمذی/الحج 33 (856)، 38 (862)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 56 (1008)، (تحفة الأشراف: 2595)، ویأتي عند المؤلف برقم: 2977 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 2965
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا علي بن حجر، قال: حدثنا إسماعيل، قال: حدثنا جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر،" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم طاف سبعا: رمل ثلاثا، ومشى اربعا، ثم قرا: واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى سورة البقرة آية 125 , فصلى سجدتين، وجعل المقام بينه وبين الكعبة، ثم استلم الركن، ثم خرج، فقال:" إن الصفا والمروة من شعائر الله فابدءوا بما بدا الله به".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ سَبْعًا: رَمَلَ ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ قَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 , فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ، وَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ:" إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَابْدَءُوا بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ".
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف میں کعبہ کے سات پھیرے لگائے، تین پھیروں میں رمل کیا اور چار پھیروں میں عام چال چلے، پھر آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی اس کے بعد مقام ابراہیم کو اپنے اور خانہ کعبہ کے درمیان کر کے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر آپ نے حجر اسود کا استلام کیا پھر نکلے اور آیت کریمہ: «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ» صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں پڑھی تو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا، اسی سے تم بھی شروع کرو۔

تخریج الحدیث: «انظر ما قبلہ (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.