الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
كتاب مناسك الحج
کتاب: حج کے احکام و مناسک
The Book of Hajj
60. بَابُ: كَيْفَ يَقُولُ إِذَا اشْتَرَطَ
باب: جب شرط لگائے تو کس طرح کہے؟
Chapter: What Should One Say When Stipulating A Condition?
حدیث نمبر: 2767
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا إبراهيم بن يعقوب، قال: حدثنا ابو النعمان، قال: حدثنا ثابت بن يزيد الاحول، قال: حدثنا هلال بن خباب:، قال: سالت سعيد بن جبير , عن الرجل يحج يشترط؟ قال: الشرط بين الناس، فحدثته حديثه يعني عكرمة، فحدثني عن ابن عباس، ان ضباعة بنت الزبير بن عبد المطلب , اتت النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، إني اريد الحج فكيف اقول؟ قال:" قولي: لبيك اللهم لبيك ومحلي من الارض حيث تحبسني، فإن لك على ربك ما استثنيت".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ الْأَحْوَلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَاب:، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ , عَنِ الرَّجُلِ يَحُجُّ يَشْتَرِطُ؟ قَالَ: الشَّرْطُ بَيْنَ النَّاسِ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهُ يَعْنِي عِكْرِمَةَ، فَحَدَّثَنِي عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ , أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَكَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ:" قُولِي: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ وَمَحِلِّي مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ تَحْبِسُنِي، فَإِنَّ لَكِ عَلَى رَبِّكِ مَا اسْتَثْنَيْتِ".
ہلال بن خباب کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو مشروط حج کر رہا ہو تو انہوں نے کہا: یہ شرط بھی اس طرح ہے جیسے لوگوں کے درمیان اور شرطیں ہوتی ہیں ۲؎ تو میں نے ان سے ان کی یعنی عکرمہ کی حدیث بیان کی، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حج کرنا چاہتی ہوں، تو کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «لبيك اللہم لبيك ومحلي من الأرض حيث تحبسني» حاضر ہوں، اے اللہ! حاضر ہوں، جہاں تو مجھے روک دے، وہیں میں حلال ہو جاؤں گی، کیونکہ تو نے جو شرط کی ہے وہ تیرے رب کے اوپر ہے۔

تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/الحج 22 (1776)، سنن الترمذی/الحج 97 (941)، (تحفة الأشراف: 6232)، مسند احمد (1/352)، سنن الدارمی/المناسک 15 (1852) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: یعنی جس طرح اور شرطیں جائز ہیں اسی طرح یہ شرط بھی جائز ہے۔

قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
حدیث نمبر: 2768
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرني عمران بن يزيد، قال: انبانا شعيب، قال: انبانا ابن جريج، قال: انبانا ابو الزبير , انه سمع طاوسا , وعكرمة يخبران , عن ابن عباس، قال: جاءت ضباعة بنت الزبير إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، إني امراة ثقيلة، وإني اريد الحج، فكيف تامرني ان اهل؟ قال:" اهلي واشترطي، إن محلي حيث حبستني".
(مرفوع) أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا , وَعِكْرِمَةَ يُخْبِرَانِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أُهِلَّ؟ قَالَ:" أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي، إِنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں، آپ مجھے بتائیے، میں کس طرح تلبیہ پکاروں؟ آپ نے فرمایا: تم تلبیہ پکارو اور شرط لگا لو کہ (اے اللہ) تو جہاں مجھے روک دے گا وہیں حلال ہو جاؤں گی۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الحج 15 (1208)، سنن ابن ماجہ/الحج 24 (2938)، (تحفة الأشراف: 5754)، مسند احمد (1/337) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 2769
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا إسحاق بن إبراهيم، قال: انبانا عبد الرزاق، قال: انبانا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة، وعن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة، قالت: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على ضباعة فقالت: يا رسول الله إني شاكية، وإني اريد الحج، فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم:" حجي واشترطي، إن محلي حيث تحبسني" , قال إسحاق: قلت لعبد الرزاق: كلاهما عن عائشة , هشام والزهري، قال: نعم، قال ابو عبد الرحمن: لا اعلم احدا اسند هذا الحديث عن الزهري، غير معمر والله سبحانه وتعالى اعلم.
(مرفوع) أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي شَاكِيَةٌ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حُجِّي وَاشْتَرِطِي، إِنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي" , قَالَ إِسْحَاق: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ: كِلَاهُمَا عَنْ عَائِشَةَ , هِشَامٌ وَالزُّهْرِيُّ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الزُّهْرِيِّ، غَيْرَ مَعْمَرٍ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بیمار ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں؟، آپ نے فرمایا: حج کرو اور شرط لگا لو کہ (اے اللہ) تو جہاں مجھے روک دے گا میں وہیں حلال ہو جاؤں گی۔ اسحاق کہتے ہیں: میں نے (اپنے استاد) عبدالرزاق سے کہا: ہشام اور زہری دونوں عائشہ ہی سے روایت کرتے ہیں: انہوں نے کہا: ہاں (ایسا ہی ہے)۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کو معمر کے سوا کسی اور نے بھی زہری سے مسنداً روایت کیا ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الحج15 (1207)، (تحفة الأشراف: 16644، 17245)، صحیح البخاری/النکاح15 (5089)، مسند احمد (6/164، 202) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.