الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
كتاب مناسك الحج
کتاب: حج کے احکام و مناسک
The Book of Hajj
85. بَابُ: قَتْلِ الْوَزَغِ
باب: چھپکلی مارنے کا بیان۔
Chapter: Killing Geckos
حدیث نمبر: 2834
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرني ابو بكر بن إسحاق، قال: حدثنا إبراهيم بن محمد بن عرعرة، قال: حدثنا معاذ بن هشام، قال: حدثني ابي، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، ان امراة دخلت على عائشة وبيدها عكاز، فقالت: ما هذا؟ فقالت: لهذه الوزغ، لان نبي الله صلى الله عليه وسلم حدثنا انه لم يكن شيء إلا يطفئ على إبراهيم عليه السلام، إلا هذه الدابة، فامرنا بقتلها، ونهى عن قتل الجنان، إلا ذا الطفيتين والابتر، فإنهما يطمسان البصر، ويسقطان ما في بطون النساء".
(مرفوع) أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ وَبِيَدِهَا عُكَّازٌ، فَقَالَتْ: مَا هَذَا؟ فَقَالَتْ: لِهَذِهِ الْوَزَغِ، لِأَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ إِلَّا يُطْفِئُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، إِلَّا هَذِهِ الدَّابَّةُ، فَأَمَرَنَا بِقَتْلِهَا، وَنَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ، إِلَّا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيُسْقِطَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ".
تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک عورت ام المؤمنین عائشہ کے پاس آئی، اور ان کے ہاتھ میں لوہے کی پھلی لگی ہوئی لاٹھی تھی، اس عورت نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ کہا: یہ ان چھپکلیوں (کے مارنے) کے لیے ہے۔ اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی آگ کو اس جانور کے سوا سبھی جانور بجھاتے تھے اسی وجہ سے آپ نے ہمیں اسے مارنے کا حکم دیا ہے۔ اور گھروں میں رہنے والے سانپ کے مارنے سے روکا ہے سوائے دو دھاریوں والے، اور دم بریدہ سانپ کے کیونکہ یہ دونوں بصارت کو زائل کر دیتے ہیں، اور حاملہ عورت کا حمل گرا دیتے ہیں۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16124)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصید12 (3231)، مسند احمد (6/83، 109، 217) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.