الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
كتاب مناسك الحج
کتاب: حج کے احکام و مناسک
The Book of Hajj
202. بَابُ: رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ بِعَرَفَةَ
باب: عرفات میں دعا میں دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
Chapter: Raising The Hands In Supplicant At 'Arfat
حدیث نمبر: 3014
Save to word اعراب
(مرفوع) اخبرنا يعقوب بن إبراهيم، عن هشيم، قال: حدثنا عبد الملك، عن عطاء، قال: قال اسامة بن زيد: كنت رديف النبي صلى الله عليه وسلم بعرفات فرفع يديه، يدعو فمالت به ناقته، فسقط خطامها، فتناول الخطام بإحدى يديه وهو رافع يده الاخرى".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هُشَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَرَفَعَ يَدَيْهِ، يَدْعُو فَمَالَتْ بِهِ نَاقَتُهُ، فَسَقَطَ خِطَامُهَا، فَتَنَاوَلَ الْخِطَامَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَهُ الْأُخْرَى".
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں عرفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا۔ تو آپ نے دعا کے لیے اپنے ہاتھ اٹھائے، اتنے میں آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر مڑی تو اس کی نکیل گر گئی تو آپ نے ایک ہاتھ سے اسے پکڑ لیا، اور دوسرا ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے رہے۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 111)، مسند احمد (5/209) (صحیح الإسناد)»

قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
حدیث نمبر: 3015
Save to word اعراب
(مرفوع) اخبرنا إسحاق بن إبراهيم، قال: انبانا ابو معاوية، قال: حدثنا هشام، عن ابيه، عن عائشة، قالت:" كانت قريش تقف بالمزدلفة ويسمون الحمس وسائر العرب تقف بعرفة فامر الله تبارك وتعالى نبيه صلى الله عليه وسلم ان يقف بعرفة ثم يدفع منها، فانزل الله عز وجل: ثم افيضوا من حيث افاض الناس سورة البقرة آية 199".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَتْ قُرَيْشٌ تَقِفُ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَيُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ وَسَائِرُ الْعَرَبِ تَقِفُ بِعَرَفَةَ فَأَمَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقِفَ بِعَرَفَةَ ثُمَّ يَدْفَعُ مِنْهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ قریش مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے، اور اپنا نام حمس رکھتے تھے، باقی تمام عرب کے لوگ عرفات میں، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ عرفات میں ٹھہریں، پھر وہاں سے لوٹیں، اور اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں وہیں سے تم بھی لوٹو نازل فرمائی۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الحج 91 (1665)، تفسیرالبقرة 35 (4520)، صحیح مسلم/الحج 21 (1219)، سنن ابی داود/الحج 58 (1910)، (تحفة الأشراف: 17195)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 53 (884) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: حمس احمس کی جمع ہے چونکہ وہ اپنے دینی معاملات میں جو شیلے اور سخت تھے اس لیے اپنے آپ کو حمس کہتے تھے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3016
Save to word اعراب
(مرفوع) اخبرنا قتيبة بن سعيد قال: حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه، قال: اضللت بعيرا لي فذهبت اطلبه بعرفة يوم عرفة،" فرايت النبي صلى الله عليه وسلم واقفا، فقلت: ما شان هذا إنما هذا من الحمس".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ بِعَرَفَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ،" فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ هَذَا إِنَّمَا هَذَا مِنَ الْحُمْسِ".
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنا ایک اونٹ کھو دیکھا، تو میں عرفہ کے دن عرفات میں اس کی تلاش میں گیا، تو میں نے وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وقوف کیے ہوئے دیکھا۔ میں نے کہا: ارے ان کا کیا معاملہ ہے؟ یہ تو حمس میں سے ہیں (پھر یہاں کیسے؟)۔

تخریج الحدیث: «صحیح البخاری/الحج 91 (1664)، صحیح مسلم/الحج21 (1220)، (تحفة الأشراف: 3193)، مسند احمد 4/80، سنن الدارمی/المناسک 49 (1920) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3017
Save to word اعراب
(مرفوع) اخبرنا قتيبة، قال: حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن عمرو بن عبد الله بن صفوان، ان يزيد بن شيبان، قال: كنا وقوفا بعرفة مكانا بعيدا من الموقف فاتانا ابن مربع الانصاري , فقال: رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم إليكم يقول:" كونوا على مشاعركم، فإنكم على إرث من إرث ابيكم إبراهيم عليه السلام".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ شَيْبَانَ، قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا بِعَرَفَةَ مَكَانًا بَعِيدًا مِنَ الْمَوْقِفِ فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ , فَقَالَ: رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَقُولُ:" كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ، فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام".
یزید بن شیبان کہتے ہیں کہ ہم عرفہ کے دن عرفات میں موقف (ٹھہرنے کی خاص جگہ) سے دور ٹھہرے ہوئے تھے۔ تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے اور کہنے لگے تمہاری طرف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں، آپ فرماتے ہیں: تم اپنے مشاعر میں رہو کیونکہ تم اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی میراث کے وارث ہو۔

تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/الحج 63 (1919)، سنن الترمذی/الحج 53 (883)، سنن ابن ماجہ/الحج 55 (3011)، مسند احمد 4/137 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3018
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا يعقوب بن إبراهيم، قال: حدثنا يحيى بن سعيد، قال: حدثنا جعفر بن محمد، قال: حدثنا ابي، قال: اتينا جابر بن عبد الله، فسالناه عن حجة النبي صلى الله عليه وسلم , فحدثنا ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قال:" عرفة كلها موقف".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَحَدَّثَنَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ".
ابو جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو ہم ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عرفات سارا کا سارا موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الحج 20 (1218)، سنن ابی داود/الحج 57 (1907، 1908)، 65 (1936)، (تحفة الأشراف: 2596)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج 73 (3048)، مسند احمد 3/321، 326، سنن الدارمی/المناسک 50 (1921)، ویأتی عند المؤلف برقم: 3048 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.