الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
كتاب مناسك الحج
کتاب: حج کے احکام و مناسک
The Book of Hajj
214. بَابُ: الرُّخْصَةِ لِلضَّعَفَةِ أَنْ يُصَلُّوا يَوْمَ النَّحْرِ الصُّبْحَ بِمِنًى
باب: کمزور اور ضعیف لوگوں کو قربانی کے دن نماز فجر منیٰ میں پڑھنے کی رخصت کا بیان۔
Chapter: Concession Allowing The Weak To Pray Subh On The Day Of Sacrifice In Mina
حدیث نمبر: 3051
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرني محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن اشهب، ان داود بن عبد الرحمن حدثهم , ان عمرو بن دينار حدثه , ان عطاء بن ابي رباح حدثهم , انه سمع ابن عباس، يقول:" ارسلني رسول الله صلى الله عليه وسلم في ضعفة اهله، فصلينا الصبح بمنى ورمينا الجمرة".
(مرفوع) أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ أَشْهَبَ، أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ , أَنَّ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ حَدَّثَهُمْ , أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ:" أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ، فَصَلَّيْنَا الصُّبْحَ بِمِنًى وَرَمَيْنَا الْجَمْرَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے خاندان کے کمزور لوگوں کے ساتھ (رات ہی میں) بھیج دیا تو ہم نے نماز فجر منیٰ میں پڑھی، اور جمرہ کی رمی کی۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3036 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3052
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا محمد بن آدم بن سليمان، قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن عبيد الله، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن ام المؤمنين عائشة، قالت:" وددت اني استاذنت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما استاذنته سودة، فصليت الفجر بمنى، قبل ان ياتي الناس وكانت سودة امراة ثقيلة ثبطة، فاستاذنت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذن لها، فصلت الفجر بمنى، ورمت قبل ان ياتي الناس".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" وَدِدْتُ أَنِّي اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، فَصَلَّيْتُ الْفَجْرَ بِمِنًى، قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ وَكَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا، فَصَلَّتِ الْفَجْرَ بِمِنًى، وَرَمَتْ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھے خواہش ہوئی کہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کرتی جس طرح سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت طلب کی تھی۔ اور لوگوں کے آنے سے پہلے میں بھی منیٰ میں نماز فجر پڑھتی، سودہ رضی اللہ عنہا بھاری بدن کی سست رفتار عورت تھیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (پہلے ہی لوٹ جانے کی) اجازت مانگی۔ تو آپ نے انہیں اجازت دے دی، تو انہوں نے فجر منیٰ میں پڑھی، اور لوگوں کے پہنچنے سے پہلے رمی کر لی۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 49 (1290)، (تحفة الأشراف: 17503)، مسند احمد (6/98، 164) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3053
Save to word اعراب
(مرفوع) اخبرنا محمد بن سلمة، قال: انبانا ابن القاسم، قال: حدثني مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عطاء بن ابي رباح، ان مولى لاسماء بنت ابي بكر اخبره، قال:" جئت مع اسماء بنت ابي بكر منى بغلس، فقلت لها: لقد جئنا منى بغلس، فقالت: قد كنا نصنع هذا مع من هو خير منك".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ مَوْلًى لِأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ:" جِئْتُ مَعَ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ مِنًى بِغَلَسٍ، فَقُلْتُ لَهَا: لَقَدْ جِئْنَا مِنًى بِغَلَسٍ، فَقَالَتْ: قَدْ كُنَّا نَصْنَعُ هَذَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ".
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کے ایک غلام کہتے ہیں کہ میں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے ساتھ اخیر رات کے اندھیرے میں منیٰ آیا۔ میں نے ان سے کہا: ہم رات کی تاریکی ہی میں منیٰ آ گئے (حالانکہ دن میں آنا چاہیئے)، تو انہوں نے کہا: ہم اس ذات کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے (یعنی غلس میں آتے تھے) جو تم سے بہتر تھے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 66 (1943)، (تحفة الأشراف: 15737)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 98 (1679)، صحیح مسلم/الحج 49 (1291)، موطا امام مالک/الحج 56 (172) (وعندہ ’’مولاة لأسمائ‘‘) مسند احمد (6/347، 351) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3054
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا محمد بن سلمة، قال: حدثنا عبد الرحمن بن القاسم، قال: حدثني مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، قال: سئل اسامة بن زيد وانا جالس معه، كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسير في حجة الوداع حين دفع؟ قال:" كانيسير ناقته فإذا وجد فجوة نص".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا جَالِسٌ مَعَهُ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ؟ قَالَ:" كَانَيُسَيِّرُ نَاقَتَهُ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ".
عروہ کہتے ہیں کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا، اور میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے لوٹتے وقت کیسے چل رہے تھے؟ تو انہوں نے کہا: اپنی اونٹنی کو عام رفتار سے چلا رہے تھے، اور جب خالی جگہ پاتے تو تیز بھگاتے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3026 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.