الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
كتاب مناسك الحج
کتاب: حج کے احکام و مناسک
The Book of Hajj
114. بَابُ: قَتْلِ الْحَيَّةِ فِي الْحَرَمِ
باب: حرم میں سانپ مارنے کا بیان۔
Chapter: Killing Snakes In The Haram
حدیث نمبر: 2885
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا إسحاق بن إبراهيم، قال: حدثنا النضر بن شميل، قال: انبانا شعبة، عن قتادة، سمعت سعيد بن المسيب يحدث، عن عائشة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" خمس فواسق يقتلن في الحل والحرم: الحية، والكلب العقور، والغراب الابقع، والحداة، والفارة".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَمْسُ فَوَاسِقَ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحَيَّةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْفَأْرَةُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ موذی جانور ہیں جو حرم اور حرم سے باہر دونوں جگہوں میں مارے جا سکتے ہیں۔ سانپ، کاٹ کھانے والا کتا، چتکبرا کوا، چیل اور چوہیا۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2832 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 2886
Save to word اعراب
(مرفوع) اخبرنا احمد بن سليمان، قال: حدثنا يحيى بن آدم، عن حفص بن غياث، عن الاعمش، عن إبراهيم، عن الاسود، عن عبد الله، قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالخيف من منى حتى نزلت: والمرسلات عرفا سورة المرسلات آية 1, فخرجت حية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" اقتلوها" , فابتدرناها فدخلت في جحرها.
(مرفوع) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَيْفِ مِنْ مِنًى حَتَّى نَزَلَتْ: وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا سورة المرسلات آية 1, فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْتُلُوهَا" , فَابْتَدَرْنَاهَا فَدَخَلَتْ فِي جُحْرِهَا.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کی مسجد خیف میں تھے یہاں تک کہ سورۃ والمرسلات عرفاً نازل ہوئی، اتنے میں ایک سانپ نکلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مارو تو ہم مارنے کے لیے جلدی سے لپکے، لیکن وہ اپنی سوراخ میں گھس گیا۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 7 (1830)، بدء الخلق16 (3317)، تفسیرالمرسلات1 (4931)، 4 (4934)، صحیح مسلم/السلام 37 (2234)، (تحفة الأشراف: 9163)، مسند احمد (1/377، 422، 428) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 2887
Save to word اعراب
(مرفوع) اخبرنا عمرو بن علي، قال: حدثنا يحيى، قال: حدثنا ابن جريج، اخبرني ابو الزبير، عن مجاهد، عن ابي عبيدة، عن ابيه، قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة عرفة التي قبل يوم عرفة، فإذا حس الحية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" اقتلوها" فدخلت شق جحر، فادخلنا عودا فقلعنا بعض الجحر، فاخذنا سعفة فاضرمنا فيها نارا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" وقاها الله شركم، ووقاكم شرها".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ عَرَفَةَ الَّتِي قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ، فَإِذَا حِسُّ الْحَيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْتُلُوهَا" فَدَخَلَتْ شَقَّ جُحْرٍ، فَأَدْخَلْنَا عُودًا فَقَلَعْنَا بَعْضَ الْجُحْرِ، فَأَخَذْنَا سَعَفَةً فَأَضْرَمْنَا فِيهَا نَارًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ، وَوَقَاكُمْ شَرَّهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم عرفہ کی رات جو عرفہ کے دن سے پہلے ہوتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک سانپ کی سرسراہٹ محسوس ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مارو لیکن وہ ایک سوراخ کے شگاف میں داخل ہو گیا تو ہم نے اس میں ایک لکڑی گھسیڑ دی، اور سوراخ کا کچھ حصہ ہم نے اکھیڑ دیا، پھر ہم نے کھجور کی شاخ لی اور اس میں آگ بھڑکا دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے شر سے اور تمہیں اس کے شر سے بچا لیا۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9630)، حصحیح مسلم/1/385 (صحیح) (اس کے راوی ”ابو عبیدہ“ کا اپنے والد محترم ابن مسعود رضی الله عنہ سے سماع نہیں ہے، مگر پچھلی سند سے یہ حدیث صحیح ہے)»

قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.